بلوچستان ۾ 15 ڏينهن لاءِ سخت پابنديون نافذ — ماسڪ به هاڻي منع!

بلوچستان حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پورے صوبے میں پندرہ دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس دوران نہ صرف ہتھیار لے کر چلنے پر پابندی ہوگی بلکہ پانچ سے زائد افراد کے کسی بھی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق، ماسک یا مفلر سے چہرہ چھپانے پر بھی مکمل پابندی ہوگی—چاہے وہ کسی عوامی مقام پر ہو یا کسی نجی جگہ پر۔ اس اقدام کا مقصد کسی بھی ممکنہ شرپسندی کو بروقت روکنا اور سیکیورٹی اداروں کو مشکوک افراد کی شناخت میں آسانی دینا ہے۔اس دوران جلسے، جلوس، دھرنے یا کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مزید برآں، سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق، گاڑیوں پر کالے شیشے لگانے والوں کے خلاف پہلے سے ہی کارروائیاں جاری ہیں، جو اب مزید سخت ہوں گی۔ یاد رہے کہ 26 جولائی کو کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہوا تھا، جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے ایک بار پھر اعادہ کیا تھا کہ: “بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔”