کراچی سمیت سندھ بھر میں آوارہ کتوں کے بڑھتے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی عامر صدیقی نے تحریک التوا جمع کرا دی ہے۔
انہوں نے اپنی تحریک میں کہا کہ کتوں کو مارنا اس مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ حکومت کو چاہیے کہ سنجیدہ اور مؤثر حکمت عملی اپنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ بچے، بزرگ اور خواتین کتے کے کاٹنے سے زخمی ہو رہے ہیں، جس کے باعث معاشرے میں خوف اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔
🐶 ممکنہ حل اور تجاویز:
عامر صدیقی نے تجویز دی کہ:
- آوارہ کتوں کو ریبیز ویکسین دی جائے
- ہر تحصیل میں ڈاگ شیلٹرز قائم کیے جائیں
- عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ بچاؤ کے طریقوں سے واقف ہو سکیں
- حکمتِ عملی ماہرین اور این جی اوز کی مشاورت سے بنائی جائے
انہوں نے زور دیا کہ یہ محض ایک جانوروں کا مسئلہ نہیں، بلکہ عوام کی صحت و تحفظ سے جڑا ہوا اہم انسانی معاملہ ہے، جس پر فوری اور ہمدردانہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
📊 اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
گزشتہ سال جون کی ایک رپورٹ کے مطابق:
- پنجاب میں صرف ایک ہفتے میں 5259 کیسز رپورٹ ہوئے
- سندھ میں 1886 شہری سگ گزیدگی کا شکار بنے
- خیبر پختونخوا: 635
- بلوچستان: 110
- آزاد کشمیر: 66
- گلگت بلتستان: 1 کیس