تفصیلات کے مطابق دریائے سوات میں طغیانی نے کئی خاندان اجاڑدیے، سانحے کو چھبیس گھنٹے گزر گئے تاہم تین افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔. معاون خصوصی برائےریلیف نیک محمد نے بتایا کہ سانحہ سوات میں لاپتہ افرادکی تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے ، بائی پاس پردریائےسوات میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ نیک محمد کا کہنا تھا کہ اب تک گیارہ افراد کی لاشیں نکالی گئیں اور چارکو بچالیا گیا تاہم 3 افراد لاپتہ ہے۔ معاون خصوصی برائےریلیف نے کہا ساںحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ مالی امداد دی جائے گی۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ پنجاب سےتعلق رکھنے والے 8 افراد، مردان سےتعلق رکھنےوالے 2 افرادکی لاشیں نکالی گئیں جبکہ لاپتہ 2 افراد کا تعلق پنجاب اور ایک کا مردان سے ہے ۔ گزشتہ روز دریائے سوات پورے خاندان سمیت اٹھارہ سیاحوں کو بہالے گیا تھا، ڈیڑھ گھنٹے منہ زور موجوں کے درمیان پھنسے بچے عورتیں اور جوان جان بچانے کے لیے چٹان پر چڑھ کر مدد کا انتظار کرتے رہے اور خودہی ایک دوسرے کوبچانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بے رحم موجیں ایک ایک کرکے سب کوبہالے گئیں۔ بچے سیلفی لینے آگے گئے تھے کہ اچانک سیلابی ریلا آگیا، حادثے کا شکار خاندان کے مطابق متاثرہ خاندان گھر سے ناران کاغان جانے کیلئے نکلا،راستے میں سوات جانے کا پروگرام بن گیا۔صوبائی حکومت کی رپورٹ کے مطابق دریائے سوات کے مختلف مقامات پر مجموعی طو پر پچھترافراد ریلے میں پھنسے اور اٹھاون افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے سیاحوں کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور دریاؤں اورندی نالوں کےقریب حفاظتی تدابیر مزید مربوط بنانے کی ہدایت کردی۔