اجلاس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ 10 گنا تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر والد ذمہ دار ہوں گے جبکہ ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ون ویلنگ یا خطرناک طرز کی ڈرائیونگ پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اجلاس میں بیدیاں و دیگر سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پنجاب کے 372 اور لاہور کے 77 پوائنٹس کی ری ماڈلنگ پر غور کیا گیا جبکہ ٹریفک چالان کے ساتھ ویڈیو اور تصویری ثبوت منسلک کرنے کی ہدایت کی گئی، ٹریفک جام کی پیشگی نشاندہی کیلیے روڈ سائیڈ ڈیجیٹل اسکرین لگانے کا حکم دیا گیا۔ اجلاس میں دوران ڈرائیونگ موبائل کے استعمال پر بھاری جرمانہ عائد، بڑی سڑکوں کے اطراف سامان سے لدی ٹرالیاں کھڑی کرنے پر پابندی اور خراب یا بند ہیڈ لائٹس کے ساتھ ڈرائیونگ پر سخت کارروائی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس میں ٹریفک پولیس کا یونیفارم تبدیل کرنے کی تجویز کا جائزہ لینے کے علاوہ ٹریفک پولیس کی 5 کیٹیگری بنانے کا فیصلہ کیا گیا، انفورسمنٹ آفیسر، ٹریفک ریگولیٹر، ایجوکیشن لائسنسنگ اور پبلک سروس آفیسر کی کیٹیگری ہوگی جبکہ شفافیت کیلیے ٹریفک وارڈن ان کیمرہ ٹریفک چالان کریں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ٹریفک پولیس کو جدید پیٹرول وہیکل اور آلات دینے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک نظام میں بہتری نظر نہیں آ رہی، ٹھوس اور پائیدار اقدامات کرنے ہوں گے، ٹریفک حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے مؤثر اقدامات ہی کامیابی ہے، شہر کی سڑکوں پر ٹریفک صورتحال کا جائزہ خود لیتی ہوں۔