“ٹھری میرواہ: صحافی ای ڈی شر کے قتل کے واقعے کے خلاف صحافیوں کا مہران نیشنل ہائی وے پر لاش رکھ کر دھرنا”

اس موقع پر صحافی بشیر شر، عجیب لاکو، اسلم رضا، علی اکبر شر اور دیگر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ صحافی ای ڈی شر کو رات گئے نامعلوم افراد نے دھوکے سے بلا کر بے دردی سے قتل کیا اور اس کی لاش کو جنگل میں پھینک دیا، جبکہ اس کی موٹرسائیکل ایک سیم نالے سے برآمد ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹھری میرواہ پولیس واقعے کو 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود اصل قاتلوں کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ایس ایچ او ٹھری میرواہ اور دیگر پولیس اہلکار ہمارے فون تک سننے کو تیار نہیں، اور پولیس تاحال شہید صحافی کا موبائل فون بھی برآمد نہیں کر سکی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا کہ شہید صحافی کے قاتلوں کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔ دوسری جانب مہران ہائی وے پر احتجاج کے باعث گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔