احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کی۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے وکلا سلمان صفدر، ظہیر عباس چوہدری اور عثمان ریاض گل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی، امجد پرویز، عرفان بھولا اور دیگر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دوران سماعت وکلا کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر نے ضمانت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں اور نہ ہی ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں اس لیے درخواست نہیں بنتی، مزید کہا کہ 31 اکتوبر 2023 کو بھی ہم نے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے بشریٰ بی بی کی جانب سے ضمانت کی درخواست پر سلمان صفدر نے دلائل دیئے، عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو مختصر وقفے کے بعد سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔ دوران سماعت وکلا صفائی کی جانب سے نیب کے مزید تین گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کر لی گئی، بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 جولائی تک ملتوی کر دی۔ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 30 گواہان کے بیانات قلمبند جبکہ 27 پر جرح مکمل کر لی گئی ہے۔