20

سندھ میں آج سے ہیٹ ویو کی پیش گوئی سے صوبے میں پانی کی دستیابی سنگین مسئلہ بن گیا ہے

سندھ میں درجہ حرارت پہلے ہی 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، ایسے میں آج سے صوبے میں ہیٹ ویو کی پیش گوئی سے سندھ کے بیشتر علاقوں میں پانی کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے طویل لوڈ شیڈنگ نے پہلے ہی دیہی علاقوں میں لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، جب کہ مسلسل اور غیر اعلانیہ بجلی کی بندش سے سکھر اور حیدرآباد کے علاقوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ ہم نے حیدر آباد اور سکھر کے ڈویژنل افسران کو ہدایت دی ہیں کہ وہ اس سلسلے میں حیسکو اور سیپکو سے رابطہ کریں تاکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی لائی جاسکےواٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی (واسا) نے حیدرآباد کے شہریوں کو صاف پانی کی عدم فراہمی کی ذمہ داری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پر عائد کردی، حیدرآباد کو گرمیوں میں روزانہ کی بنیاد پر 13 کروڑ گیلن پانی درکار ہوتا ہے واسا حکام نے بتایا کہ حیسکو ہماری درخواست پر عمل نہیں کرتا جس کے سبب ہم حیدرآباد کو روزانہ کی بنیاد پر 7 یا ساڑھے 7 کروڑ گیلن پانی فراہم کرنے کے قابل ہیں اور ان کی باقی ضروریات خام پانی سے پوری کی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے بیشتر علاقوں میں بڑے پیمانے پر فلٹر پلانٹس موجود نہیں ہیں جس سے شہریوں کو صاف پانی فراہم کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں