11

سندھ پولیس کی زمینوں پر پیٹرول پمپ، دکانیں، گودام، فلیٹ اور دفاتر تعمیر ہونے کا انکشاف

تفصیلات کے مطابق پولیس ویلفیئرکے نام پر تھانوں میں کمرشل سرگرمیاں کرنے کے کیس میں آئی جی سندھ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی کاپی اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی جس میں سندھ پولیس کی زمینوں پر پیٹرول پمپ، دکانیں، گودام، فلیٹ اور دفاتر تعمیر ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ پولیس کو دی گئی زمین پر صوبے بھر میں 4 پیٹرول پمپ، 1397 دکانیں بنائی گئیں، 338 فلیٹ ، 37 گودام اور 162 دفاتر سندھ پولیس کی زمین پربنائے گئےصوبے بھر میں کل 32 مقامات پر کمرشل سرگرمیاں چل رہی ہیں ، ضلع کیماڑی میں ایک پیٹرول پمپ اور 6 دکانیں تعمیر کی گئیں، کراچی سٹی میں 304 دکانیں، 66 فلیٹس، 8 گودام اور 62 دفاتر تعمیر ہیں ضلع وسطی میں 70 دکانیں، ملیرمیں ایک پیٹرول پمپ پولیس کی زمین پرقائم ہے، حیدرآبادمیں ایک پیٹرول پمپ، 247 دکانیں، 271 فلیٹ، 29 گودام ، 100 دفاتر شامل ہیں رپورٹ کے مطابق دادو 51 ، بدین 4 ، میرپور خاص میں 57 دکانیں ہیں جبکہ نوابشاہ 169, سکھر 117، خیرپور 121 دکانیں ، گھوٹکی 70 ،لاڑکانہ 62 ،کشمور 27، جیکب آبادمیں 92 دکانیں قائم کی گئیں رپورٹ میں کہنا تھا کہ ضلع وسطی کی 70 دکانوں سے حاصل رینٹ مد میں 6.4 ملین جمع ہیں اور حاصل آمدن پولیس حکام کیلئے فوری ریلیف کیلئے استعمال کی جاتی تھی نارتھ ناظم آباد پولیس اسٹیشن کی زمین پر 1987 میں 70 دکانیں تعمیر کی گئیں تھی، سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد دکانداروں کو دکان خالی کرنے کا کہا گیا تھا دکانداروں نے نوٹسز کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ، جس پر سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کو معاملے کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا، بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو فوری کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کا حکم دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں