15

اے ایس پی شہر بانو پیا گھر سدھار گئیں، مہندی اور بارات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

لاہور میں مشتعل ہجوم کے درمیان خاتون کی جان بچانے والی خاتون پولیس افسراسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس شہربانو نقوی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔ شہربانو نقوی کی شادی اشتر نقوی نامی شخص سے ہوئی ہے تاہم ان کا تعلق کون سے شعبے سے ہے اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق شہربانو کی مہندی اور شادی کی تقریبات لاہور میں منعقد ہوئیں جب کہ ان کے ولیمے کی تقریب 28 اپریل کو ہوئی شہر بانو نقوی کی مہندی اور شادی کی تقریبات سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جہاں صارفین جوڑے کو مبارک باد دے رہے ہیں اور شہر بانو کی خوبصورتی کی تعریف کررہے ہیں۔ شہربانو نے مہندی پر ڈیزائنر محسن نوید رانجھا کا پیلے رنگ کا شرارا زیب تن کیا۔ اس کے علاوہ اپنی بارات پر اے ایس پی شہربانو سرخ رنگ کے عروسی لباس میں نظر آئیں شہر بانو نقوی کی مہندی اور بارات کی تصاویر فوٹوگرافر نے شیئر کیں اور ساتھ ہی میک اپ آرٹسٹ نے بھی خاتون پولیس افسر کی ویڈیوز پوسٹ کیں جو تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔ بارات کی اس ویڈیو میں شہربانو کی انٹری سمیت انہیں اسٹیج پر دُلہا کے ساتھ بیٹھے گفتگو کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شہربانو کی مہندی اور شادی کی تقریبات لاہور میں منعقد ہوئیں جب کہ ان کے ولیمے کی تقریب 28 اپریل کو ہوئی یاد رہے کہ 25 فروری کو صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے کاروباری علاقے اچھرہ میں عربی حروف تہجی والا لباس پہننے پر مشتعل ہجوم نے خاتون پر توہین مذہب کا الزام لگایا، خاتون پولیس افسر کی بروقت کارروائی نے صورتحال کو نہ صرف بگڑنے سے بچایا بلکہ خاتون کو بھی مشتعل ہجوم سے بحفاظت نکال لیا تھا۔ پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ شاپنگ کرنے گئی تھی، خاتون نے ایک لباس پہنا ہوا تھا جس میں کچھ عربی حروف تہجی لکھے ہوئے تھے جس پر لوگوں نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور خاتون سے فوری طور پر لباس کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اس صورتحال میں پنجاب پولیس کی خاتون پولیس آفیسر اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی 15 ہیلپ لائن کی کال پر جائے وقوع پہنچیں، ان کی جانب سے بروقت کارروائی نے صورتحال کو نہ صرف بگڑنے سے بچایا بلکہ خاتون کو بھی مشتعل ہجوم سے بحفاظت باہر نکال لیا تھا۔ ان کے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر ان کی بہادری کی تعریفیں کی جارہی تھیں اور انہیں عالمی سطح پر بھی سراہا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں