61

انتخابات میں کامیابی کے لیے مودی سرکار سوشل میڈیا کا غیرقانونی استعمال کرنے لگی

پارٹی کو بہترین ثابت کرنے کے لیے مودی سرکار نے سوشل میڈیا پر مہم شروع کردی ، مختلف ویڈیوز اور میسیجز کے ذریعے بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تفصیلات کے مطابق انتخابات میں کامیابی کے لیے مودی سرکار سوشل میڈیا کا غیر قانونی استعمال کرنے لگی، مختلف وڈیوز اور میسیجز کے زریعے بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں جاری ہے الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جس دن بھارت میں انتخابات کا اعلان ہوا اسی دن بی جے پی نے سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی ، مودی سرکار الیکشن جیتنے کے لیے ہر حربا استعمال کر رہی ہے رپورٹ میں کہنا تھا کہ پارٹی کو بہترین ثابت کرنے کے لیے مودی سرکار نے سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی، بی جے پی میں ایک مرکزی سیل ہے، جو روز یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آج کن پیغامات کو وائرل کرنا ہے بھارتی صحافیوں کے مطابق بی جے پی کے لیے حکومت کے ڈیٹا بیس تک رسائی آسان تھی ، جس کے زریعے واٹس ایپ پر میسج کیے گئے، مودی سرکار اپنے سیای مقاصد کے لیے پولیٹیکل مارکٹنگ کا استعمال کر رہی ہے  اپوزیشن کو بھی انتہائی مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اکثر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما جیل میں ہیں، الجزیرہ رپورٹ کے مطابق 2017 میں قائم کیے گئے الیکٹورل بانڈ فنڈز سے 60فیصد رقم بی جے پی کو گئی جو تقریبا 60 ارب بنتی ہے بھارتی صحافیوں نے کہا کہ یہ سب میڈیا کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس سے ملک بھر میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مودی ہندوستان کو آگے لے جانا چاہتے ہیں، ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنا کر بی جے پی اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے ، بی جے پی بدعنوانی کے الزامات لگا کر اپوزیشن جماعتوں پر دباوٴ ڈال رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ متعدد سیاستدان جیل میں ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں