53

پی ایس ایل 9 کا سفر کیسا رہا؟

پاکستان: سپر لیگ کا نواں ایڈیشن آج فائنل میچ کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے گا کسی ٹیم کے لیے یہ سفر شاندار تو کسی کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا دنیا کی مقبول ترین لیگز میں سے ایک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) نواں ایڈیشن آج فائنل میچ کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے گا فائنل میچ میں ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں آپس میں ٹکرائیں گی کسی ٹیم کے لیے پی ایس ایل 9 کا یہ سفر شاندار تو کسی کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا ملتان سلطانز کا پی ایس ایل 9 میں سفر رہا شاندار اس نے گروپ میچز میں 10 میں سے 7 میں فتوحات سمیٹ کر پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ ٹیم رہی اور پلے آف مرحلے کے کوالیفائر میں پشاور زلمی کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی سلطانز نے ہوم گراونڈ پر ابتدائی پانچ میں سے 4 میچ جیت کر پوزیشن مستحکم کی اور ملتان سے باہر نکل کر بھی فتوحات کا سفر جاری رکھا اسلام آباد یونائیٹڈز ٹیم رہی اتار چڑھاو کا شکار، یونائیٹڈ نے جیت کے ساتھ ایونٹ کا آغاز کیا لیکن پھر لگاتار تین مچیز ہارے جس کے بعد ٹیم بیدار ہوئی اور کراچی کنگز کے خلاف فتح سے انہیں پھر ایسا کھڑا کیا کہ وہ فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے اسلام آباد نے پلے آف کے پہلے ایلیمنیٹرز میں پہلے کوئٹہ گلیڈیئٹرز کو آؤٹ کلاس کیا پھر دوسرے ایلمینٹرز جیت کر پشاور زلمی کے دوسری بار چیمپئن بننے کی خواہش پر پانی پھیر دیا شاور زلمی نے گروپ اسٹیج کا اختتام 13 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن پر کیا تھا لیکن بدقسمتی کہ پلے آف کے کوالیفائر میں اسلام آباد کے ہاتھوں شکست کے بعد ایلیمنیٹر مرحلے سے گزرنا پڑا جہاں سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ نے 5 وکٹوں سے فتح سمیٹی کوئٹہ گلیڈیئٹرز نے کپتان اور منیجمنٹ کی تبدیلی کے بعد پی ایس ایل 9 میں بہتری کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور چار سال بعد پلے آف میں جگہ بنائی لیکن پہلے ایلیمنیٹرز میں ان کے ہاتھ پاؤں ایسے پھولے کہ 175 رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 135 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی کراچی کنگز نے گزشتہ دو سیزن کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن فائنل فور میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس نے ایونٹ کے 10 میں سے 4 میچز جیتے لاہور قلندرز جو مسلسل دو بار کا پی ایس ایل چیمپئن تھا اور نویں ایڈیشن میں اپنے اعزاز کا دفاع کر رہا تھا تاہم اس بار یہ میگا ایونٹ اس کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا کہ 10 میں سے صرف ایک ہی میچ جیت سکے اور یوں لگا کہ قلندرز واپس اپنی پرانی ڈگر پر لوٹ گئے بات کریں انفرادی کارکردگی کی کوئی غیر ملکی کھلاڑی ٹاپ تھری میں جگہ نہ پا سکا بلے بازوں میں زلمی کے کپتان بابر اعظم 569 بنا کر ٹاپ پر رہے۔ ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان 381 رنز کے ساتھ دوسرے جب کہ اسی ٹیم کے نوجوان کھلاڑی عثمان خان 373 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے عثمان خان نے ایک ایونٹ میں دو سنچریاں بنانے کا اعزاز اپنے نام کیا بولرز میں اسامہ میر 23 وکٹوں کے ساتھ ٹاپ پر ہیں۔ دوسرے نمبر پر 18 وکٹوں کے ساتھ محمد علی اور 16 وکٹوں کے ساتھ ابرار احمد تیسرے نمبر پر رہے پی ایس ایل 9 کی ٹرافی کا منفرد فوٹو شوٹ آج اگر اسامہ میر تین وکٹیں حاصل کرسکے تو پی ایس ایل کے کسی بھی ایک ایونٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیں گے اس سے قبل یہ اعزاز حسن علی کے پاس ہے جنہوں نے 2019 کے پی ایس ایل میں 25 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں