55

رمضان کی آمد سے قبل ملک میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ،پیاز، کیلے کی برآمد پر پابندی عائد

رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ملک کے تمام بڑے شہروں میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ حکومت نے 15 اپریل تک پیاز اور کیلے کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے گزشتہ روز پیاز اور کیلے کی برآمد پر عارضی پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی کوارنٹین ڈیپارٹمنٹ کے تمام مجاز افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ پیاز اور کیلے کی (بیرون ملک) ترسیل کے لیے فائٹوسینٹری سرٹیفکیٹ جاری نہ کریں۔ کراچی میں فروخت ہونے والی سبزیوں کے نرخوں میں 25 سے 100 فیصد تک اضافہ ہوگیا۔ آلو 70 سے 80 روپے فی کلو، پیاز 250 سے 270 روپے فی کلو، ٹماٹر 200 روپے کلو، لہسن 600 روپے، ادرک 600 روپے، ہری مرچ 400 روپے، شملا مرچ 600 روپے، لیموں 450، بند گوبھی 160، پھول گوبھی 240 اور مٹر 240 روپے فی کلو فروخت ہونے لگے لاہور میں بھی سبزیوں پھلوں اور گوشت کی قیمت میں اضافہ ہوگیا، دکانداروں کی من مانیوں نے پرائز کنٹرول مجسٹریز کی کارکردگی کو بھی مات دے دی۔ بڑا گوشت 1200روپے کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ مٹن کا گوشت سرکاری قیمت 1600 کے بجائے 2300 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ کیلا سوئم 250روپے درجن اور سیب درمیانہ 400روہے کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ مٹر 150، بھنڈی 400، کریلے 600روپ، لہسن 500، ادرک 650 روپے، پیاز دوئم 230 پیاز کے بجائے 300روپے، ٹماٹر 200 روپے، آلو دوئم 55 کے بجائے 80 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے راولپنڈی میں پیاز 200 روپے، لہسن 480 روپے، ادرک 489 روپے، آلو 70 روپے، سبز مرچ 300 روپے، لیموں 180 روپے، شملہ مرچ 230 روپے، کریلا 300 روپے، مٹر 130 روپے، ٹینڈا 120 روپے، پھول گوبھی 120 روپے، بند گوبھی 75 روپے اور گاجر 40 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ کوئٹہ میں بھی رمضان سے قبل مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا اور پرائس کنٹرول کمیٹی مصنوعی مہنگائی کم کرنے ناکام ہوگئی۔ آلو اور پیاز کی قیمتوں میں 15، 15روپے فی کلو تک اضافہ کیا گیا۔ آلو 60روپے کلو جبکہ پیاز 220روپے کلو تک پہنچ گئے۔ ٹماٹر 150روپے کلو، سبز مرچ 280روپے کلو، بھنڈی 320، مٹر 200 اور کدو 150روپے کلو تک پہنچ گیا۔ ادرک اور لہسن کی قیمت میں 100، 100روپے فی کلو اضافہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں