48

پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں پاکستانی خواتین کا کردار

پاکستان میں یونیفارم میں بھی خواتین نے اپنی صلاحیتیں منوائی ہیں پاکستان آرمی میں پہلے خواتین طِب کے شعبے سے وابستہ تھیں آج خواتین کور آف سگنلز، الیکٹریکل اینڈ مکینکل انجیئرنگ، آرڈیننس، آرمی سروسزکور،میڈیکل کور، ایجوکیشن برانچ، ایڈمن اینڈ سروسز، پبلک ریلیشنز، لابرانچز کے علاوہ بحریہ،پاک فضائیہ کے مختلف شعبوں بشمول جی ڈی پائلٹ کےاپنی کارکردگی کے جوہر دکھا رہی ہیں اس کی پہلی مثال لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر ہیں جو اسلامی دُنیا کی پہلی خاتون سرجن جنرل بنیں، میجر سلمیٰ ممتاز1971ء میں خدمات کےجذبے پر فلورنس نائٹ اینگل سے نوازا گیا فلائیٹ لیفٹینٹ عائشہ فاروق پہلی پاکستانی خاتون فائٹر پائلٹ تھیں فلائینگ آفیسر مریم مختیار شہید کو فرض شناسی کے اعزاز میں تمغہ بسالت سے نوازا گیا اس وقت پاکستانی خواتین اقوامِ متحدہ کی چھتری تلے امن مشن کا حصہ ہیں عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی ویمن پیس کیپرز کی خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا، 2020 میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی خواتین کے 15 رکنی امن دستے کو بہترین کارکردگی پر تمغوں سے نوازا تھا اس کے علاوہ اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ آف پولیس، سیدہ شہر بانو نقوی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فروری 2024 کو لاہور کے اچھرہ بازار کے مشتعل ہجوم سے ایک خاتون کو بحفاظت نکالا تھا، پاکستانی خواتین نے قوم کی عزت اور وقار میں اضافے کے لیے بے پناہ خدمات سر انجام دی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں