57

طوفانی بارشوں سے تباہی، گوادر کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ

گزشتہ روز ہونے والی 16 گھنٹے سے زائد کی مسلسل طوفانی بارش نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کو ڈبو دیا۔ پانی کہیں گھروں میں داخل ہوا تو کہیں سڑکیں بہا کر لے گیا، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم جب کہ عوام سیلابی ریلوں سے بچنے کے لیے بلند علاقوں میں منتقل ہونے لگے جی ڈی اے کالونی، فقیر کالونی، جنت بازار، ایئرپورٹ روڈ پر برساتی پانی گھروں اور دکانوں میں گھس گیا۔ طوفانی ہواؤں سے کھمبے اکھڑ گئے اور درخت بھی گر گئے جب کہ کئی کشتیاں بھی آپس میں ٹکرانے سے ٹوٹ گئیں سربندر اور شنکانی میں کوسٹل ہائی وے زیر آب آ گئی۔ گوادر ایئرپورٹ پر بھی 6 انچ پانی کھڑا ہوگیا جس کے باعث گوادر جانے والی پروازیں روک دی گئیں انتظامیہ نے ملابند وارڈ کے مکینوں کو اونچے علاقوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ رات گئے بارش کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جب کہ پی ڈی ایم اے نے مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے اور اس حوالے سے انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے گوادر شہر ڈوب گیا، بڑی تباہی کا خدشہ شہر کی صورتحال پر بلوچستان سے منتخب سینیٹر کہدہ بابر نے حکومت سے گوادر کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرین کی مدد کے لیے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو بھی آگے آنا چاہیے دوسری جانب ڈی سی گوادر کا کہنا ہے کہ شہر اور گرد ونواح میں 168 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو کے کام جاری ہیں جب کہ بارشوں سے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں