امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پر سندھ اسمبلی کی جیتی ہوئی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ایس 129 پر آزاد امیدوار سیف باری جیتا تھا، ہمیں خیرات کی کوئی سیٹ نہیں چاہیے، جو جیتیں ہیں ان کو جتواؤ، جماعت اسلامی کو ایک ووٹ بھی ناجائز نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن کو الیکشن کہنا نا انصافی ہے، جعلسازی کرنے والے خود پھنس گئے، اب یہ نہیں نکل سکتے، ایم کیو ایم کے باضمیر لوگوں کو کہتا ہوں سامنے آئیں، مصطفیٰ کمال سمیت بہت سارے ایم کیو ایم والے ہار چکے ہیں، ان کو جتوایا گیا ہے،ہم ایک ایک ووٹ سامنے لائیں گے امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ جعلی مینڈیٹ پر جشن منانے والے ڈوب مریں، فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، ہماری جیتی ہوئی سیٹیں واپس کی جائیں، بدترین مخالف کیلئے بھی یہی کہیں گے کہ جو جیتا ہے اس کو سیٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تباہ حال شہر کو مزید تباہ کرنا چاہتے ہیں، اب قوم میں شعور پیدا ہوگیا ہے، ہم اپنی نسلوں کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، ہم لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف نہیں لے کر جانا چاہتے، ہم پرامن سیاسی مزاحمت کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری لڑائی عوام کے حق کیلئے ہے، ہم خاموش ہو کر گھر نہیں بیٹھیں گے، قانونی و آئینی جنگ لڑیں گے، کراچی شہر کا دل جماعت اسلامی کے ساتھ دھڑکتا ہے، ہمیں عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکتے، ہماری لڑائی اداروں سے نہیں، ہم نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا 8 فروری کو بہت سارے پولنگ اسٹیشنز پر وقت پر پولنگ شروع نہیں ہوئی، وقت گزرتا گیا ہم پولنگ شروع نہ ہونے کی شکایات کرتے رہے، عوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کارروائی کرنے والوں نے پہلے کیمرے ہٹائے اور پھر ڈبے بھرنے شروع کیے، فارم 45 نہیں دیے جا رہے تھے، بڑی تعداد میں پولنگ ایجنٹس کو فارم فراہم ہی نہیں کیے گئے تھے، فارم 47 میں بدترین دھاندلی کی گئی، آر او کے آفسز کو چاروں اطراف سے سیل کیا گیا تاکہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے، ہم حقائق کو مسلسل عوام کے سامنے لاتے رہیں گے۔