مسلم لیگ ن نے “باپ” کو باپ مان لیا ہے، مولا بخش چانڈیو

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ نواز شریف نے جسے مسلم لیگ ن نے “باپ” کو باپ مان لیا ہے۔ انہوں نے کہ کہ ن لیگ کام ہو تو پاوں پڑتی ہے، ورنہ گلے میں پڑ جاتی ہے۔ مولا بخش چانڈیوکا کہنا تھا کہ نواز شریف کی پالیسی نہیں بدلی، وہی پالیسی ہے جو ضیاالحق کےدور میں تھی، ان کے چہروں اوردل سے پیپلز پارٹی نہیں ہٹے گی ہم نے باپ پارٹی سے کبھی اتحاد نہیں کیا ، ہمیں میاں صاحب کی جیل قبول نہیں ،ہم انہیں جیل میں دیکھنا نہیں چاہتے، آپ جیل سے ضمانت پر باہر گئےتھے، آپ گئے کسی اور حیثیت میں اور آئے کسی اور حیثیت میں ہیں۔ ضیاالحق نےان کو بنایا ہی اس لیے کہ یہ پیپلز پارٹی سے لڑتے رہے، ن لیگ جو بھی رائے قائم کرے ہم اپنی جگہ پر کھڑے ہیں، نوازشریف نے منتشر لشکر کو ایک سیاسی پارٹی میں تبدیل کیا ہے ادھر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ن لیگ سہارا نہ ڈھونڈے، اپنے بل بوتے پر سیاست کرے۔ مٹھی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم بے نظیر بھٹو کے خواب پورا کرنا چاہتے ہیں، پیپلزپارٹی نے تھرمیں کام کر کے دکھایا، ہم شہید ذوالفقار اور بی بی شہید کے وعدے نبھا رہے ہیں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تھر میں کام کر کے پیپلزپارٹی کے خلاف پراپیگنڈے کا جواب دے دیا ہے، تھرکول منصوبہ ہماری کارکردگی کا ثبوت ہے، غربت، بےروزگاری کے مسائل سے انکار نہیں کرسکتے، تاہم تھر میں بچوں کی شرح اموات میں کمی آئی ہے، یہ اعداد شمار میرے نہیں بلکہ عالمی اداروں کے مطابق ہیں، پیپلز پارٹی نے یہاں ماں اور بچوں کیلئے پروگرام شروع کیا ہے چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ تھر سمیت مختلف شہروں میں مزید کام کی ضرورت ہے، روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ ہم نے پورا کرنا ہے، آئندہ حکومت بنی تو ترقی کے سفر کو آگے لے کر جائیں گے، تھر سے کراچی تک ریلوےلائن بنانی ہے، ریلوےلائن سےتھرکول کو مارکیٹ تک پہنچایا جائے گا، چاہتے ہیں کہ تھرکےعوام کا سفرآرام دے ہو۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آئندہ 5 سال بھی تھر میں ترقی کا سفرجاری رہے گا، الیکشن کے دوران تھر نہیں آؤں گا، عوام نے میرا نمائندہ بننا ہے اور تیرکو جتواناہے چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہمارا مختلف معاملات پر وفاقی حکومت سے جھگڑا رہا، سیلاب متاثرین کی بحالی سمیت دیگر معاملات پر جھگڑا رہا، ہم تھرکول کی طرح دیگر منصوبے بھی پبلک پرائیوٹ سے چلانا چاہتے ہیں، نگران حکومت کو گزشتہ حکومت کی پالیسی کو جاری رکھنا ہوگا، نگران حکومت کو منصوبوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔