181

سکھر : تعلیمی بورڈ کا سب سے بڑا اسکینڈل سامنے آگیا..!130 ملین روپے کی نوکریا بندر بانٹ کرنے کا انکشافات

سکھر : کے بے باک سیاسی نے جو ہمیشہ عوامی خدمت کا نعرہ لگاتی ہے اور اس کا منشور بھی روٹی ،کپڑا اور مکان ہے لیکن سکھر میں اس کے رہنماؤں نے اس کا الٹ منشور اپنا لیا ہے.چالیس سال سے سندھ میں راج کرتے آئے ہیں، اس نے نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر کا 130 ملین روپے میں سودا کرلیا.مصدقہ ذرائع کے مطابق سکھر تعلیمی بورڈ میں کل بھرتیاں 25 ہونی تھیں لیکن اشتہار 43 کا دیا گیا، اور پھر بھرتیاں 58 کی کردی گئیں ہیں جبکہ 17 مزید آرڈر نکالے جا رہے ہیں،یہ تمام بھرتیاں منڈی لگا کر میرٹ کو پس پشت رکھتے ہوے پیسوں پر بیچی گئی ہیں اسسٹنٹ کنٹرولر گریڈ 17 کی نوکری ایک لاڑکانہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کے بھائی اور ایک خورشید شاہ کے فرنٹ میں یونین کے صدر غلام مصطفیٰ پیرزادہ کی بیوی کو دیا گیا ہے، جبکہ اسسٹنٹ اور جونیر کلارک کی نوکریاں کنٹرولر فتح مہر کے 2 سالوں کو بھی دی گئی ہیں سندھ ہائی کورٹ نے سندھ میں ایک گریڈ سے 17 گریڈ کی بھرتیاں بند کرنے کا حکم دیا ہوا ہے لیکن سائیں نے اس آرڈر کو پاؤں تلے روندتے ہوے بھرتیاں کروادیں ہیں سکھر تعلیمی بورڈ کو کرپشن کا گڑھ بنانے والا سید مجتبی شاہ جو 60 سال کے بجائے 65 سال میں ریٹائرڈ ہوا اور اپنا اثر رسوخ قائم کرتے ہوے رفیق پلھ کو چیئرمین لگوایا ہے جو سائیں کے گھر کی بجلی اور کچن کا بل ادا کرتا ہے سندھ کے نوجوان بلاول بھٹو سے گذارش کرتے ہیں کہ اگر اسی طرح اپنے وزیروں سے نوکریوں کی بولی لگوانی تھی تو پھر IBA کے ذریعے 5 سے 16 گریڈ کی نوکریوں کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا؟ کیوں نوجوانوں کے مستقبل اور امیدوں سے کھلواڑ کیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں