36

وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کے معاملے پر 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا

اسلام آباد : آڈیو لیکس کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ کے سنیئر ترین جج جسٹس قاضی فائر عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کمیشن میں شامل ہیں۔وفاقی حکومت نے کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا،جوڈیشل کمیشن آڈیو لیکس کی صداقت اور عدلیہ کی آزادی پر پڑنے والے اثرات کی تحقیقات کرے گا۔ کمیشن کے ٹی او آرز بھی نوٹیفکیشن کا حصہ ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کیمشن سابق وزیراعلٰی پنجاب اور وکیل کی آڈیو لیکس کی تحقیقات کرے گا،مخصوص بینچ کے سامنے مقدمات سماعت کیلئے مقرر کرنے کی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔سابق وزیراعلٰی اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی مبینہ آڈیو لیکس کی بھی تحقیقات ہوں گی،سابق چیف جسٹس سے متعلق مبینہ آڈیو کی تحقیقات بھی کی جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی جہاں صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آڈیو لیکس ہوتی ہے،آپ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے؟ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ بس آپ دعا کریں۔صحافی نے سوال کیا کہ کبھی آڈیو لیکس،کبھی پروپیگنڈا،آپ سمجھتے ہیں کہ حالات کو کچھ بہتر کیا جاسکتا ہے ؟ اس پر چیف جسٹس پاکستان لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ جبکہ قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کی گئی۔ آڈیو تحقیقات سے متعلق خصوصی کمیٹی کے قیام کی تحریک قومی اسمبلی میں منظور کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں