37

پاکستان : امریکا کی کوئی غلام ریاست نہیں بلکہ آزاد ملک ہے، رضا ربانی امریکی محکمہ خارجہ کے تبصروں کی ہر طرح سے مذمت کی جاتی ہے، پاکستان ایک آزاد خود مختار ملک ہے، سابق چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد :  سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا کی کوئی غلام ریاست نہیں بلکہ آزاد ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے تبصروں کی ہر طرح سے مذمت کی جاتی ہے، پاکستان ایک آزاد خود مختار ملک ہے۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کے مطابق سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دے دیا۔رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر روزانہ تبصرہ کرنا عادت بنا لی، ان کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک ریاست ہے امریکا کی کوئی غلام ریاست نہیں ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے تبصروں کی ہر طرح سے مذمت کی جاتی ہے، پاکستان ایک آزاد خود مختار ملک ہے، پاکستان کسی بھی ریاست کی رہنمائی کے بغیر اپنے اندرونی عدم استحکام سے نمٹ سکتا ہے، اندرونی عدم استحکام، سیاسی بدامنی کا مقابلہ آئین اور قانون کے چاروں کونوں میں ہو رہا ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ بیانات پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، دنیا کے دیگر ممالک کے بیانات بھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، مغربی دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے پاکستان نوآبادیاتی نظام کو قبول نہیں کرے گا، پاکستان توقع کرتا ہے کہ ایسے ممالک مستقبل میں ایسے بیانات دینے سے گریز کریں گے۔خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے بگڑتے حالات پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ وہ کئی مرتبہ اپنی گفتگو میں پاکستان کے اندرونی معلامات پر تبصرہ کر چکے ہیں۔ 12 مئی کو پریس بریفنگ میں ویدانت پٹیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حالات کی نگرانی کر رہے ہیں، پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کے رہنما پسند یا ناپسند نہیں، خوشحال اور محفوظ پاکستان امریکا کے مفاد میں ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ جمہوری اقدار، اصولوں کی پاسداری اور قانون کا احترام دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان کے ساتھ کئی معاملات پر بات چیت جاری ہے، مضبوط جمہوری پاکستان امریکا کے مفاد میں ہے، انسانی حقوق اور میڈیاکی آزادی کا معاملہ پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آزاد میڈیا بہتر جمہوری معاشرہ تشکیل دیتا ہے، وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ ’پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ نجی سیکٹر کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سکیورٹی امور پر اہم شراکت داری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، زراعت اور توانائی شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مصروف ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں