31

مصنوعی ذہانت 80 فیصد ملازمتوں کی جگہ لے سکتی ہے، ماہرین

امریکی سائنسدان اور مشہور محقق بین گورٹسل کو مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلجنس کے شعبے میں گُرو سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت 80 فیصد انسانی ملازمتوں کی جگہ لے سکتی ہے۔56 سالہ بین گورٹسل ‘سینگولیرٹی نیٹ‘ نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو اور شریک بانی بھی ہیں۔یہ ایک ایسا تحقیقی گروپ ہے، جو ”آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس‘‘ یا ‘انسانی فکری صلاحیتوں کی حامل مصنوعی ذہانت‘ تخلیق دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔بین گورٹسل نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ان کوششوں کی مذمت کی ہے، جو حال ہی میں مصنوعی ذہانت کو روکنے کے لیے کی گئی ہیں۔مصنوعی ذہانت کتنی جلدی انسان کی طرح فکری یا سوچنے سمجھنے کی صلاحت حاصل کر سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں بین گورٹسل کا کہنا تھا، ”اگر ہم چاہتے ہیں کہ مشینیں واقعی لوگوں کی طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھیں، ہوشیار ہوں اور نامعلوم صورتحال سے نمٹنے میں اتنی ہی چست ہوں، جتنے کہ انسان ہیں تو انہیں اپنی تربیت اور پروگرامنگ سے آگے جا کر مسائل حل کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ابھی ہم وہاں تک نہیں پہنچے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم یہ سفر کئی عشروں کی بجائے صرف برسوں میں طے کر لیں گے۔‘‘حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے ‘چیٹ جی پی ٹی‘ جیسے پروگرام سامنے آئے ہیں۔ کئی ناقدین اس شعبے میں تحقیق پر کم از کم چھ ماہ کی پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم بین گورٹسل کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی پابندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا، ”یہ بہت ہی دلچسپ اے آئی سسٹمز ہیں لیکن یہ انسان کی طرح فکری صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ پیچیدہ اور کثیر الجہتی دلائل دینے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ سسٹمز اپنے تربیتی ڈیٹا کے دائرہ کار سے باہر نکل کر نئی چیزیں ایجاد نہیں کر سکتے۔‘‘مستقبل میں انسانی ملازمتوں کے حوالے سے بین گورٹسل کا کہنا تھا کہ اصل میں مصنوعی ذہانت سے انسانوں کی ملازمتوں کو کوئی بہت بڑا خطرہ نہیں ہے، ”کیونکہ بنیادی طور پراتنے لوگ ہی نہیں ہیں، جو نرسنگ اور نرسنگ اسسٹنٹ جیسی نوکریاں کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ گھریلو کام کاج اور تعلیم کے شعبے میں روبوٹس کا استعمال کارآمد رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں