34

صدر پی ڈی ایم کا سوموار کوسپریم کورٹ کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان سپریم کورٹ مدر آف دی لاء ہے، مدر اِن لاء نہیں ہے، سپریم کورٹ انہیں تحفظ دے رہی جو 60ارب کا غبن کیا، کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ آور ہوئے ، جس کیس کا علم نہیں اس میں بھی ضمانت دے دی، اندازہ لگائیں عدلیہ کہاں کھڑی ہے؟ پی ڈی ایم صدر مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم صدر مولانا فضل الرحمان نے سوموار کوسپریم کورٹ کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کردیا،سپریم کورٹ مدر آف دی لاء ہے، مدر اِن لاء نہیں ہے، 60ارب کا غبن کیا، کورکمانڈرہاؤس پر حملہ کیا ، سپریم کورٹ تحفظ دے رہی، جس کیس کا علم نہیں اس میں بھی ضمانت دے دی، اندازہ لگائیں عدلیہ کہاں کھڑی ہے؟انہوں نے پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے غبن اور غبن کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی ،60ارب کے کرپشن کیس میں عمران خان کو تحفظ دیا جارہا ہے، سپریم کورٹ مجرم کو تحفظ دے رہی ہے، سپریم کورٹ نے کرپشن کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی۔آج ہائیکورٹ نے جو فیصلے دیئے کہ 9مئی کے بعد جو واقعات ہوئے اس پر درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے، بلکہ کسی مقدمے اگر انہیں علم بھی نہ ہو تو بھی گرفتار نہ کیا جائے گا۔اندازہ لگائیں عدلیہ کہاں کھڑی ہے؟ کس طرح آئین سے ماورا فیصلے دے رہی ہے؟ کیا نوازشریف کو اس طرح کی رعایت ملی؟ ان کی اہلیہ کومے میں تھی تو انہوں نے منت سماجت کی ٹیلیفون دیا جائے، جب وہ اپنے سیل میں گئے تو موت کی خبر آگئی۔مریم نواز اور فریال تالپور کو اس طرح کی رعایت دی گئی؟ پورے ملک میں دہشتگردی ہورہی ہے جبکہ عدالت تحفظ دے رہی ہے، کورکمانڈر کے گھر پر حملہ ہورہا ہے، تاریخی یادگاروں کو اکھیڑا جارہا ہے، ریاست کے محافظوں کی جس طرح تذلیل ہورہی ہے کیا عدالت ان کو تحفظ دے گی؟ آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہاب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف احتجاج ہوگا۔ پی ڈی ایم قیادت کی نمائندگی کرتے ہوئے قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ سوموار کو پوری قوم اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے گی، سپریم کورٹ کے سامنے بہت بڑا دھرنا دیں گے۔سپریم کورٹ مدر آف دی لاء ہے، مدر اِن لاء نہیں ہے، یہ آسمان سے اترے ہوئے نہیں، ہماری طرح انسان ہیں، آئین سے اس حد تک ماوراء جائیں گے کہ پارلیمنٹ کو بھی سپریم نہیں سمجھیں گے؟ ہم واضح کہنا چاہتے ہیں چیف جسٹس صاحب سن لیں، ہم 3، 2کا فیصلہ قبول نہیں، 4، 3کا فیصلہ قبول کرتے ہیں۔ قانون بننے کے بعد آپ ازخود نوٹس نہیں لے سکتے۔ تمام کارکنان گھروں سے اسلام آباد پہنچیں گے اور سپریم کورٹ کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیں گے۔ گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔ ایسا جواب دیں گے چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔احتجاج میں اگر کسی نے توڑ پھوڑ کی تو وہ پی ٹی آئی کا شر پسند ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں