45

پاکستان: میں صحافیوں پر حملوں میں گزشتہ برس تریسٹھ فیصد اضافہ

اسلام آباد : پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران صحافیوں پر حملوں اور ان کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں تریسٹھ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پچھلے برس ملک بھر میں ایسے کم از کم ایک سو چالیس واقعات پیش آئے۔حکومت عمران خان کی تقریریں نشر کرنے پر سے پابندی ہٹانے پر کیوں مجبور ہوئی؟اسلام آباد سے پیر یکم مئی کے روز موصولہ رپورٹوں کے مطابق ذرائع ابلاغ اور ان کے کارکنوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک پاکستانی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں صحافیوں پر حملوں کے واقعات اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں 63 فیصد اضافے کے بعد کم از کم بھی 140 ہو گئے۔اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد ملکی میڈیا کارکنوں کے لیے سب سے پرخطر شہر بن چکا ہے، جہاں پچھلے سال 56 ایسے واقعات پیش آئے، جن میں صحافیوں یا میڈیا اداروں کو براہ راست حملوں کا نشانہ بنایا گیا یا انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں۔اے آر وائی کے خلاف کارروائی کی ذمہ دار حکومت ہے، سلمان اقبالپانچ صحافی ہلاکفریڈم نیٹ ورک کی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافیوں اور صحافتی اداروں کے لیے سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ پنجاب دوسری سب سے خطرناک جگہ ثابت ہوا، جہاں گزشتہ ایک برس کے دوران 35 ایسے واقعات پیش آئے، جن میں صحافتی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس سالانہ رپورٹ میں مئی 2022ء اور مارچ 2023ء کے درمیانی عرصے میں آزادی صحافت پر کیے جانے والے حملوں کا ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔جبری پابندی کے نو ماہ کی کہانیاس رپورٹ کے شریک مصنف اور فریڈم نیٹ ورک کے عہدیدار اقبال خٹک نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا، ”گزشتہ برس مئی اور اس سال مارچ کے درمیانی عرصے میں پاکستان میں کم از کم پانچ صحافیوں کو ہلاک بھی کر دیا گیا۔انہوں نے کہا، ”صحافیوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں یہ اضافہ بہت پریشان کن ہے اور اپنے تدارک کے لیے حکام کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔‘‘پاکستان کا ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں ایک سو ستاون واں نمبرصحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے 2022ء کے ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں پاکستان کا نمبر وہاں آزادی صحافت اور صحافیوں کو لاحق خطرات کی وجہ سے 180 ممالک میں 157 واں رہا تھا۔جنوبی ایشیا کی ہائی برڈ جمہوریتوں میں آزاد صحافت اور مشکلاتپاکستانی صحافیون کی وفاقی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سربراہ افضل بٹ نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا، ”پاکستان میں آزادی صحافت کو درپیش خطرات اور صحافیوں پر حملوں کے حالیہ واقعات کو مدنظر رکھا جائے، تو خدشہ ہے کہ اس سال ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں پاکستان کی پوزیشن مزید خراب ہو کر 157 سے بھی نیچے گر جائے گی۔‘‘فریڈم نیٹ ورک نے پیر یکم مئی کے روز اپنی یہ تازہ سالانہ رپورٹ آزادی صحافت کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری کی، جو ہر سال تین مئی کو منایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں