42

عمران خان: امریکا سے ڈیلنگ کے لیے سخت جب کہ شہباز شریف موافق رہے امریکا کے لیے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی اہم ہے،پنجاب اور اس کے بعد دیگر صوبوں میں انتخابات کا حکم قانون کی حکمرانی ہے،سپریم کورٹ کا فنڈ جاری کرنے کا حکم صوبائی انتخابات کے لیے ضروری ہے، امریکا کسی پالیسی، طاقتور یا حکومت کے ساتھ نہیں کھڑا ۔بریڈ شرمین کا ایوان نمائندگان میں خطاب

اسلام آباد: امریکی ایوان نمائندگان کے رکن کانگریس بریڈ شرمین کا کہنا ہے کہ عمران خان امریکا سے ڈیلنگ کے لیے سخت جب کہ شہباز شریف موافق رہے۔بریڈ شرمین نے ایوان نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں امریکا حامی حکومت تعلقات کے لیے آسان ہوتی ہے۔محکمہ خارجہ اتفاق کرے گا،امریکا کے لیے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی اہم ہے۔بریڈ شرمین نے کہا کہ عمران خان امریکا سے ڈیلنگ کے لیے سخت جب کہ شہباز شریف موافق رہے،مگر سوال جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا پنجاب اور اس کے بعد دیگر صوبوں میں انتخابات ہونے چاہئیں۔پنجاب اور اس کے بعد دیگر صوبوں میں انتخابات کا حکم قانون کی حکمرانی ہے۔میرے خیال میں سپریم کورٹ کا حکم حتمی اور ناقابل اپیل ہے۔سپریم کورٹ کا فنڈ جاری کرنے کا حکم صوبائی انتخابات کے لیے ضروری ہے۔بریڈ شرمین نے کہا امریکا کسی پالیسی، طاقتور یا حکومت کے ساتھ نہیں کھڑا ہے۔امریکا صرف جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھڑا ہے،امریکا انسانی حقوق ، آزادی رائے کے ساتھ کھڑا ہے۔مجھے لاپتہ ہونے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تشدد کے ٹھوس ثبوت پر تشویش ہے۔پاکستان میں انسانی حقوق ، جمہوریت ، قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔بریڈ شرمین نے کہا سب سے اہم یہ ہے کہ پاکستان میں اکتوبر 2023 میں عام انتخابات طے ہیں۔پاکستان کے لیے وقت پر آئینی اور شفاف انتخابات سے زیادہ کچھ اہم نہیں ہے، پاکستان میں انتخابات جیتنے والے کو حکومت کرنے دینے سے زیادہ کچھ اہم نہیں ہے۔خیال رہے کہ بریڈ شرمین قبل ازیں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کہاکہ عمران خان نے فون پر بتایا کہ وہ امریکا مخالف نہیں ہیں، فون کال کے دوران عمران خان نے کہا وہ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں سپریم کورٹ نے الیکشن کرانیکا فیصلہ اسی وقت جاری کیا تھاجب میری اور عمران خان کی بات ہوئی، سماجی ویب سائٹس پر لوگ کہہ رہے ہیں امریکی وزیر خارجہ بلنکن کو میرا خط عمران خان کی حمایت میں ہے، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو لکھے میرے خط کو عمران خان کی حمایت کے طور پر نہ دیکھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں