40

اینٹی کرپشن ٹیم کا چوہدری پرویز الہٰی کے گھر پر چھاپہ سابق وزیر اعلٰی پنجاب کو گرفتار کرنے کی کوششیں، پولیس دیواریں پھلانگ کر گھر میں داخل ہوگئی، گھر میں موجود خواتین سمیت کئی افراد گرفتار کر لیے گئے

لاہور : پولیس کی جانب سے چوہدری پرویز الہٰی کو گرفتار کرنے کی کوششیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس سابق وزیر اعلٰی پنجاب کے گھر میں داخل ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے چوہدری پرویز الہٰی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس مقصد کیلئے اینٹی کرپشن ٹیم پنجاب پولیس، لیڈیز پولیس اہلکار اور اینٹی رائٹس فورس کے اہلکار لاہور کے علاقے ظہور الہٰی روڈ پر واقع چوہدری پرویز الہٰی کے گھر پہنچے۔پولیس اہلکاروں کی جانب سے گھر کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی گئی، جس میں ناکامی کے پولیس اہلکار دیواریں پھلانگ کر گھر میں داخل ہوگئے۔ اس دوران پولیس کو کارکنوں کی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پتھراو کی وجہ سے گھر میں داخل ہونے والے پولیس اہلکاروں کو واپس پیچھے ہٹنا پڑا۔پولیس کی جانب سے چوہدری پرویز الہٰی کے گھر کو گیٹ توڑنے کی دوبارہ کوشش کی گئی جس میں ناکامی پر بکتر بند گاڑی کو بلا لیا گیا۔بکتر بند گاڑی کی مدد سے گیٹ توڑنے کے بعد پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد چوہدری پرویز الہٰی کے گھر میں داخل ہو گئی، پولیس نے گھر میں موجود خواتین سمیت کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔ بتایا گیا ہے پولیس سابق وزیر اعلٰی پنجاب کو گوجرانوالہ میں درج مقدمے میں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس حوالے سے چوہدری مونس الہٰی کی جانب سے کہنا ہے کہ ان کے والد نے آج جس مقدمے میں ضمانت حاصل کی، پولیس اسی مقدمے میں ان کے والد کو گرفتار کرنے آئی ہے۔عمران خان درست کہتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ختم ہو گئی۔ جبکہ اس سے قبل جمعہ کے روز لاہور کی انسداد رشوت ستانی کی خصوصی عدالت میں دو ارب روپے سے زائد رشوت لینے کے الزام میں درج مقدمہ میں سابق وزیر اعلی پنجاب و تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت کنفرم کردی گئی تھی۔ اینٹی کرپشن عدالت کے جج علی رضا نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔جمعہ کو سماعت پر چوہدری پرویز الٰہی اپنی ایک روز عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر اپنے وکیل امجد پرویز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پراسیکیویشن کی طرف سے سرکاری وکیل میاں وسیم سرور پیش ہوئے۔ عدالت نے عبوری ضمانت کی توثیق کے عوض پرویز الٰہی کو 10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ دوران سماعت عدالت نے نشاندھی کی کہ یہ کمزور شہادت کا کیس ہے جہاں رشوت دینے کا الزام ہے وہاں پرویز الٰہی موجود نہیں تھا، شریک ملزمان کے بیان پر کیس بنایا آگیا، یہ بات کیس کو کمزور کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں