32

امریکہ اور مغرب اقوام متحدہ کے نظام میں بحران کے ذمہ دار،روس

اسلام آباد : پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ اقوام متحدہ کے نظام میں سنگین اور مکمل بحران کے لیے ذمہ دار ہیں۔ اور یہ صرف یوکرین کے مسئلے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ امریکہ چاہتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات پر بھی اس کا تسلط قائم رہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات واشنگٹن کے اپنا تسلط قائم کرنے کی جارحانہ کوششوں اور غیر مستحکم پیش قدمی کے بجائے مفادات کے توازن کے بنیاد پر متفقہ خطوط پر قائم ہونے چاہیں۔ انہوں نے یک قطبی عالمی نظام کی بھی نکتہ چینی کی۔یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات صرف ایک ’نئے عالمی نظام‘ کے تحت ممکن، روساقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت اس وقت روس کے پاس ہے اور یہ میٹنگ اس کی مدت کار کی آخری میٹنگ تھی۔میٹنگ کے دوران لاوروف نے متنبہ کیا کہ دنیا سرد جنگ کے مقابلے اس وقت ایک ممکنہ زیادہ خطرناک دہلیز پر پہنچ گئی ہے۔لاوروف نے کہا، “کثیرالجہتی میں اعتماد کی کمی کے سبب صورت حال ابتر ہوتی جارہی ہے۔غلط کو غلط ہی کہا جائے گا۔ کوئی بھی مغربی اقلیت کو پوری انسانیت کی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔لاوروف کے بغل میں بیٹھے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے یوکرین میں روسی حملے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عروج پرگوٹیریش نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہو رہے ہیں اور ملک اور اس کے عوام تباہ حالی کا شکارہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ انیس کی وبا کی وجہ سے پہلے ہی عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے۔روسی یوکرینی جنگ: پوٹن کی جوہری طاقت میں اضافے کی دھمکیانہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے اب تک کثیرالجہتی نظام سب سے زیادہ دباو میں ہے۔”بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اپنے تاریخی عروج پر ہے۔ اسی طرح کسی غلط مہم جوئی یا غلط اندازے کے سبب تصادم کا بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔”روس پر نکتہ چینیسلامتی کونسل کے کئی اراکین بشمول امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے یوکرین میں جنگ شروع کرنے کے لیے روس کی مذمت کی۔اقوام متحدہ: روسی حملے کی مذمت اور افواج کے فوری انخلاء سے متعلق قرارداد منظوریورپی یونین کے سفیر اولاف اسکوگ کا کہنا تھا کہ “اس مباحثے کا انعقاد کرکے روس خود کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور کثیر الجہتی کا علم بردار بتانے کی کوشش کر رہا ہے۔لیکن اس سے زیادہ سچائی سے دور کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک مذموم حرکت ہے۔”برطانوی سفیر باربرا ووڈ ورڈ نے کہا کہ “دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ روس کے لیے کثیرالجہتی کا مطلب کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر سے کھلواڑ اور ایک ایسی جنگ مسلط کرنا جس نے یوکرین کو ناقابل تصور مصائب سے دوچار کر دیا ہے۔”یوکرین پر روس کا حملہ ‘اجتماعی ضمیر کی توہین’ ہے، انٹونیو گوٹیرشامریکہ کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کاپی ہوا میں لہراتے ہوئے کہا “روس کی منافقت دیکھئے کہ اس نے اپنے پڑوسی یوکرین پر حملہ کردیا اور کہتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کو دل سے چاہتا ہے۔امریکی سفیر کا کہنا تھا، “یہ صرف یوکرین یا یورپ کے لیے تشویش کا موجب نہیں ہے بلکہ ہم سب اس پر فکر مند ہیں۔ کیونکہ آج یوکرین ہے لیکن کل کوئی دوسراملک بھی ہو سکتا ہے۔ بڑے ملک اپنے چھوٹے پڑوسیوں پر حملہ کرسکتے ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں