53

یمنی دارالحکومت صنعا میں بھگدڑ میں کم از کم 85 افراد ہلاک

اسلام آباد : یمن کے حوثی باغیوں کے اہلکاروں نے 20 اپریل جمعرات کے روز بتایا کہ دارالحکومت صنعا میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم 78 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔تاہم فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کم ا ز کم 85افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حوثی وزارت داخلہ کا کہنا کہ ہے درجنوں افراد کو قریب کے ہسپتالوں میں بھرتی کیا گیا ہے۔سعودی اور حوثی باغیوں کے درمیان امن مذاکراتبھگدڑ کا واقعہ بدھ کے روز دیر رات اس وقت پیش آیا جب شہر کے ایک اسکول میں سینکڑوں لوگوں کا ہجوم خیراتی عطیہ حاصل کرنے کی امید میں جمع ہوا تھا۔ رمضان کے آخری ایام کے موقع پر تاجروں کی جانب سے یہ خیرات تقسیم کی جا رہی تھی۔سعودی عرب اور حوثیوں میں مذاکرات سے یمن میں امن کی نئی امیدایک حوثی سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اس واقعے میں ملوث ہونے کے شبہے میں تین افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق اس تقریب کے انعقاد کے ذمہ دار دو تاجروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔یمن میں قیدیوں کا تبادلہ امید کی نئی کرن، تاہم امن اب بھی مشکوکخبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک گمنام حوثی اہلکار کے حوالے اطلاع دی ہے کہ اس میں 85 افراد ہلاک اور 322 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد سے متعلق اندازے مختلف ہیں اور سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔یمن میں بچھی بارودی سرنگیں، ہر قدم پر موتعرب کے غریب ترین ملک یمن میں عید الفطر کی تعطیل سے عین قبل یہ واقعہ پیش آیا، جو رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام کی علامت ہونے کے ساتھ ہی تہوار میں خوشیوں کے دن ہوتے ہیں۔بھگدڑ کیسے مچ گئی؟بھگدڑ صنعا کے وسط میں واقع پرانے شہر میں واقع ایک اسکول میں مالی امداد کی تقسیم کے لیے منعقدہ تقریب میں ہوئی۔امدادی تقریب میں سینکڑوں لوگ عطیات وصول کرنے کے لیے جمع تھے۔ دو عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہاں بطور خیرات فراہم کی جا رہی امدادی رقم فی شخص 5,000 یمنی ریال یعنی تقریبا 20 امریکی ڈالر کے برابر تھی۔بھگدڑ کے واقعے کے بعد حکام نے فوری طور پر اسکول کو سیل کر دیا اور لوگوں کو اس کے قریب آنے سے روک دیا۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام مقامی حکام کے ساتھ رابطے کے بغیر کیا جا رہا تھا اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔وزارت نے کہا، ”کچھ تاجروں کی طرف سے رقم کی بے ترتیب تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔” وزارت کے ترجمان نے واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ حوثی اہلکاروں نے ہجوم پر قابو پانے کی کوشش میں ہوا میں گولی چلائی، جو بجلی کے ایک تار سے جا لگی اور دھماکہ ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق اسی کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر اس خاندان کو معاوضہ کے طور پر 2,000 امریکی ڈالر کی رقم ادا کریں گے، جس کا کوئی بھی رشتے دار ہلاک ہوا ہو۔ زخمیوں کو تقریباً 400 ڈالر دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔حوثیوں کا یمن کے دارالحکومت پر قبضہ؟ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سن 2014 میں دارالحکومت صنعا پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور گروپ نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد نے اس پر سن 2015 میں مداخلت کی اور اس طرح یہ تنازعہ ریاض اور تہران کے درمیان پراکسی جنگ میں بدل گیا۔یمن کی اس خانہ جنگی میں اب تک 150,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کی وجہ سے ملک شدید انسانی بحران سے دو چار ہے۔اس ماہ کے اوائل میں ایک سعودی وفد حوثی باغیوں کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کے لیے یمن پہنچا تھا۔14 اپریل کو دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ شروع کیا اور اب تک تقریباً 900 قیدیوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔یمن کی حوثی تحریک کے اعلیٰ مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور مزید بات چیت ہو گی۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں 21 ملین سے زیادہ افراد یا ملک کی دو تہائی آبادی کو فوری امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں