110

دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت کا خدشہ، الرٹ جاری

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے محکمہ آبپاشی کے تمام چیف انجینئرز کو ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے رواں سال مون سون کی بارشوں کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دریائے سندھ میں 30 اپریل سے 30 جون تک پانی کی قلت کے خدشے کا اظہار کیا ہے اور گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں کے چیف انجینئرز کو ایڈوائزری لیٹر لکھتے ہوئے وارننگ جاری کی ہے کہ اس سلسلے میں فوری سے پیشتر ضروری اقدامات کئے جائیں. ذرائع کے مطابق گذشتہ سال ارسا کی ایڈوائزری میں 30 فیصد پانی کی قلت کے خدشے کا اظہار کیا گیا تھا لیکن مجموعی طور پر 65 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اس سال گذشتہ سال کی نسبت 7 فیصد اضافے کے ساتھ 37 فیصد زرعی پانی کی قلت کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے اس لحاظ سے پانی کی اس قلت میں مزید اضافہ متوقع ہے. سکھر بیراج پر کنٹرول روم کے انچارج عبدالعزیز سومرو نے کہا ہے کہ مذکورہ پانی کی قلت سے رواں سال خریف کی کی فصل متاثر ہونے کا بھی امکان ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں