46

شاہد خاقان عباسی نے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی مخالفت کر دی حکومت کو ججز کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کرنا چاہئیے،مجھے نہیں پتہ حکومت کن گراؤنڈ پر سوچ رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی گفتگو

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ وہ نوازشریف کی رائے کا احترام کرتے ہیں لیکن میری رائے میں ججز کے خلاف ریفرنس دائر نہیں ہونا چاہئیے۔انہوں نے سینئر صحافی اعزاز سید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے فل بینچ بنانے کی بات نہ سن کر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے مگر سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے عدلیہ میں تقسیم پیدا ہو گی۔انہوں نے کہا ججز کے خلاف ریفرنس مس کنڈکٹ پر دائر ہوتا ہے۔میں ریفرنس دائر کرنے کے حق میں نہیں۔نوازشریف نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔میں ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں، اگر کوئی گراؤنڈ ہے تو بالکل ریفرنس کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا مجھے نہیں پتہ حکومت کن گراؤنڈ پر سوچ رہی ہے۔خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور 14مئی کو صوبہ پنجاب میں انتخابات کے اعلان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان تین ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جانا چاہیے اور ان کا فیصلہ ہی ان کے خلاف چارج شیٹ کا درجہ رکھتا ہے،ایک شخص کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے کتنے جتن ہو رہے ہیں، مجھے دوہرے معیار سمجھ نہیں آتے ،کسی کو حکومت سے نکالا جا رہا ہے، کسی کو حکومت میں لایا جا رہا ہے، کسی کو پھانسی گھاٹ پر لٹکایا جا رہا ہے، کسی عمر قید کی سزا سنائی جا رہی ہے، آمروں کیلئے نظریہ ضرورت ایجاد کیا جاتا ہے ،پارلیمنٹ سب سے بڑا اعلیٰ ادارہ ہے، اس کی کسی بھی چیز کو اہمیت نہیں دی جا رہی، ایک شخص کو کیسے اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ چیف جسٹس پاکستان کا وزیراعظم بھی بن جائے، وزیر دفاع بھی بن جائے، وزیر داخلہ بھی بن جائے، چیف الیکشن کمشنر بھی بن جائے اور پارلیمنٹ بھی بن جائے، پارلیمنٹ کو خود کو منوانا چاہیے، لوگ قوم کو تباہ و برباد کررہے ہیں ،اس تباہی بربادی کے خلاف کھڑے ہو جائیں،اس طرح کے فیصلے صادر کر کے ملک کو تباہی کے راستے پر لے جانے والے ججوں کے خلاف آواز اٹھانے والے ججوں کا اقدام جہاد ہے اور ان ججوں کی کوششیں جہاد ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں