38

انتیس سالہ شامی مہاجر جرمن گاؤں کا میئر منتخب

اسلام آباد : باڈن ورٹمبرگ کے صوبائی دارالحکومت شٹٹ گارٹ سے پیر تین اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ریان الشبل کو میئر کے عہدے پر انتخاب کے لیے ہونے والی رائے دہی میں 55.41 فیصد ووٹ ملے۔ یوں اتوار دو اپریل کی شام اعلان کردہ انتخابی نتائج کے مطابق الشبل قطعی اکثریتی ووٹ لے کر اس عوامی عہدے پر فائز ہونے کے حقدار قرار پائے۔جرمنی آمد سن دو ہزار پندرہ میںریان الشبل کی عمر اس وقت 29 برس ہے اور وہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے اپنی جان بچانے کے لیے فرار ہو کر 2015ء میں کئی دیگر مہاجرین کے ساتھ پناہ کے متلاشی غیر ملکی کے طور پر جرمنی پہنچے تھے۔زلزلہ متاثرین کے لیے جرمن حکومت کی فاسٹ ٹریک ویزا پیشکشمیئر کے طور پر اپنے انتخاب کے لیے انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت کے نمائندے کے بجائے ایک آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہ جنوب مغربی جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ میں اوسٹلزہائم نامی دیہی بلدیاتی علاقے کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔جرمنی: اعلیٰ عدالت نے بھی اذیت دینے میں آلہ کار بننے والے شامی شہری کی سزا کو برقرار رکھاریان الشبل سیاسی طور پر جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے رکن بھی ہیں اور اس کے لیے کام بھی کرتے ہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ اوسٹلزہائم کے بلدیاتی سربراہ کے الیکشن میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لینا چاہتے تھے اور مقامی شہریوں کی اکثریت نے ان کو ووٹ دے کر ان کا مان بڑھایا ہے۔شام میں آبائی شہر سویداریان الشبل کا شام میں آبائی شہر ملک کے جنوب مغرب میں واقع شہر سویدا ہے، جو اسی نام کے خطے کا دارالحکومت بھی ہے۔ الشبل شامی خانہ جنگی کے دوران اپنی جان بچا کر 21 برس کی عمر میں سویدا سے رخصت ہوئے تھے۔انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب سابق شامی کرنل کو عمر قیدالشبل گزشتہ سات برسوں سے اوسٹلزہائم کے قریبی قصبے آلٹ ہَینگ شٹٹ کی بلدیاتی انتظامیہ کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔اب لیکن وہ اوسٹلزہائم کا میئر منتخب ہونے کے بعد اسی گاؤں میں منتقل ہو جائیں گے، جو باڈن ورٹمبرگ میں Calw نامی کاؤنٹی میں واقع ہے۔کسی جرمن بلدیاتی ادارے کا پہلا شامی میئریان الشبل کے بارے میں جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے، کثیر الاشاعت جرمن روزنامے ‘بِلڈ‘ اور دیگر میڈیا نے بھی لکھا ہے کہ وہ شاید جرمنی میں کسی بھی سطح کے کسی بلدیاتی ادارے کے میئر منتخب ہونے والے پہلے شامی باشندے ہیں۔خاص طور پر جنوب مغربی جرمنی میں تو پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔لاما سلیمان، شامی کم جرمن زیادہباڈن ورٹمبرگ میں صوبے بھر کے بلدیاتی اداروں کی نمائندہ تنظیم نے بھی بتایا ہے کہ آج سے پہلے تک اس صوبے میں میئر کے عہدے کے لیے کبھی ایسا کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا تھا جو شامی نژاد رہا ہو۔شامی مہاجر نے جرمن خاتون پولیس اہلکار کو افغان مہاجر کے ہاتھوں ریپ ہونے سے بچا لیااتوار دو اپریل کو ہونے والے اس الیکشن میں ریان الشبل کا مقابلہ مارکو شٹراؤس اور ماتھیاس فائے نامی دو حریف امیدواروں سے تھا اور ان دونوں نے بھی الشبل کی طرح آزاد امیدواروں کے طور پر اس الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ریان الشبل صرف 9.23 مربع کلومیٹر رقبے والے جس گاؤں اوسٹلزہائم کے میئر منتخب ہوئے ہیں، اس کی 2022ء کے آغاز پر آبادی 2507 نفوس پر مشتمل تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں