30

50 روپے کے شورٹی بانڈ پر لندن بھاگنے والا کہتا ہے معیشت تباہ کردیں گے نواز شریف کہتا ہے اگر فیصلہ آیا تو ڈالر 500 روپے کا ہو جائے گا ، مفرور شخص معزز عدالتوں کو دھمکیاں دے رہا ہے ، اپنی حکومت کو سمجھایا تھا اس کو باہر نہ جانے دیا جائے، نوازشریف کے ڈالرز 500 روپے کا ہونے کے بیان پر فواد چوہدری کا ردعمل

لاہور : فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ 50 روپے کے شورٹی بانڈ پر لندن بھاگنے والا کہتا ہے معیشت تباہ کردیں گے، نواز شریف کہتا ہے اگر فیصلہ آیا تو ڈالر 500 روپے کا ہو جائے گا ، مفرور شخص معزز عدالتوں کو دھمکیاں دے رہا ہے ، اپنی حکومت کو سمجھایا تھا اس کو باہر نہ جانے دیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کی شب کو تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد پارٹی ترجمان فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، کور کمیٹی اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نواز شریف کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج نوازشریف سپریم کورٹ کے ججز سے بڑا ناراض ہیں، سپریم کورٹ کے انہی ججز کی وجہ سے شہباز شریف حکومت قائم ہے اگر سپریم کورٹ قاسم سوری کی رولنگ پر مداخلت نہ کرتی تو شہباز شریف کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے، یہ سوموٹو کیس کے ذریعے اقتدار میں آئے ورنہ یہ جیل میں ہوتے۔پاکستان کا ایک مفرور پاکستان کو کہتا ہے فل کورٹ بنائیں، نواز شریف کہتا ہے اگر فیصلہ آئے گا تو ڈالر 500 روپے کا ہو جائے گا، 50 روپے کے شورٹی بانڈ پر لندن بھاگنے والا کہہ رہا ہے معیشت کو تباہ کر دیں گے۔جنہوں نے شوکت ترین کے خلاف کیس بنایا تھا کیا آج نوازشریف کی دھمکی پرکیس بنائےگی؟ مفرور شخص چیف جسٹس آف پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے، اپنی حکومت کو اس وقت سمجھایا تھا اس کو باہر نہ جانے دیا جائے۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس سے پہلے پاکستان کے ایسے حالات نہیں دیکھے، ملک ایسے بحران میں ہے ایک بھی قدم خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتا ہے، آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کریش کر گئی ہیں، حکومت نے ایک روپیہ بھی پٹرول کی قیمتوں میں کم نہیں کیا، پاکستان کے اندر معاشی بحران سب کے سامنے ہے، گزشتہ 10 دنوں میں راشن لیتے ہوئے 20 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، یہ پاکستان کی معیشت کی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کو محلاتی سازش کے ذریعے گرایا گیا، اب بحران سے نکلنے کی ان کو سمجھ نہیں آرہی، پاکستان میں خوراک پر ہنگاموں کی ابتدا ہوچکی ہے، راشن لیتے جانیں ضائع ہونا انسانی المیہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں