35

پشاور میں ایک سکھ دکاندار کا قتل اور اس اقلیتی برادری کے خدشات

اسلام آباد :جمعہ 31 مارچ کو دن کے قریب ساڑھے تین بجے دیر کالونی پشاور کے علاقے میں دیال سنگھ کو ان کے جنرل سٹور کے اندر قتل کردیا گیا۔ ایس ایس پی آپریشن خیبر پختونخوا ہارون رشید کے مطابق، ”نامعلوم حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے… جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہے۔‘‘ ہارون رشید کا مزید کہنا تھا، ”نامعلوم شرپسندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ وصولی کے امکانات پر تفتیش کی جائے گی مگر قتل میں ذاتی دشمنی کا عنصر بھی خارج از امکان نہیں ہے۔‘‘سات سال کے دوران خیبر پختونخوا کی سکھ برادری میں قتل کا ساتواں واقعہخیبر پختونخوا بالخصوص ضم شدہ سابق قبائلی علاقوں میں عرصہ دراز سے رہائش پذیر سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق 22 اپریل 2016 کو رکن صوبائی اسمبلی سورن سنگھ قتل ہوئے۔29 مئی 2018 کو سکھ رہنما سردار چرن جیت کو پشاور سکیم چوک میں واقع ان کی دکان کے اندر حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ 30 ستمبر 2021 کو سکھ کمیونٹی کے معروف حکیم سردار ستنام سنگھ کو بھی چارسدہ روڈ پر ان کے حکمت خانہ کے اندر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا اور گزشتہ سال مئی 2022 میں پشاور کے علاقے سربند میں فائرنگ سے دو سکھ تاجر کلجیت سنگھ اور رنجیت سنگھ ہلاک ہوئے۔اسی طرح پانچ جنوری 2022 کو ایک سکھ نوجوان پرویندر سنگھ کا قتل ہوا تھا جس میں بعد ازاں اس کی اپنی منگیتر ملوث نکلی۔ سورن سنگھ کا قتل سیاسی دشمنی کا شاخسانہ تھا جبکہ چرن جیت کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں مذہبی منافرت کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے۔ حکیم ستنام سنگھ اور بٹّہ تل بازار سربند میں مارے جانے والے سکھوں کے قاتلوں کو پکڑنے کا بھی پولیس دعوی کرچکی ہے لیکن ان کے قتل کے محرکات سامنے نہیں آئے۔دیال سنگھ کے قتل پر اہل خانہ اور سکھ کمیونٹی کا موقفبھائی کی اندوہناک موت پر آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ شوہر قتل ہوگیا، یہ کہنا ہے دیال سنگھ کی بیوہ سرجیت کور کا جو گزشتہ سال بٹہ تل بازار میں قتل ہونے والے رنجیت سنگھ کی بہن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک برس ہونے کو آیا ہے لیکن آج تک ان کے جواں سال بھائی کے قاتل کا پتہ نہیں چلا: ”ہم غریب لوگ ہیں نہ کبھی بھتہ کی پرچی ملی شوہر کو نہ کوئی دھمکی، وہ کسی سے کوئی ذاتی دشمنی بھی نہیں رکھتے تھے۔غم سے نڈھال وہ بتا رہی تھیں کہ ان کے چار چھوٹے بچے ہیں جنہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ انہیں کیوں یتیم کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سکھ برادری کے رہنما اور سماجی کارکن بابا گروپال کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر انہیں بھی بطور ذمہ دار شہری شدید تشویش ہے لیکن بطور پرامن اقلیت انہیں اور ان کی برادری کو زیادہ خوف محسوس ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سکھ کمیونٹی حکومت سے سکیورٹی کے علاوہ اب تک مارے جانے والے تمام افراد کے قتل کی شفاف تحقیقات اور محرکات سامنے لانے کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔ وہ پولیس کے تمام دعووں کو مسترد کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ ان کی برادری میں قتل ہونے والوں کا کوئی قاتل آج تک نہیں پکڑا گیا- ان کا کہنا تھا دہشت گردی میں مطلوب ملزمان کو جب پکڑا جاتا ہے تو انہیں سکھوں کے قاتلوں کے کھاتے میں ڈال کر خانہ پری کر لی جاتی ہے۔’بس رب کی طرف نظریں لگی ہیں حکومت سے تو کوئی امید نہیں‘
بابا گروپال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد کمیونٹی میٹنگ ہوئی ہے جس میں سنگت نے کسی بھی قسم کا احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس سے پہلے رنجیت اور کلجیت کے قتل کے بعد انہیں کسی قسم کا ریلیف ملنا تو دور الٹا احتجاج کی پاداش میں انتظامی افسران کی خفگی سمیت امتیازی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست ماں ہوتی ہے اور ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم ماں کے سامنے بھی نہیں رو سکتے اور مذہبی اجتماعات سے لے کر آخری رسومات تک سب ہی خوف کے سائے تلے ادا کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا، ’’اور تو اور اب ہمارے کاروبار بھی غیر محفوظ ہیں۔ ہمارے تاجر بھائی ایک سال کے دوران بھتہ خوری سے تنگ آکر صوبہ ہی چھوڑ گئے ہیں۔ لگ بھگ 100 سے زائد خاندانوں نے پشاور سے ننکانہ، لاہور اور پنجاب کے دیگر اضلاع کی جانب ہجرت کی ہے۔‘اپنی بات انہوں نے اس جملے پر ختم کی کہ پاکستان ان کے لیے گرونانک کی نسبت سے محترم اور مقدس ترین خطہ زمین ہے لیکن وہ لوگ اب یہاں عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں-پولیس کا موقفایس ایس پی آپریشن ہارون رشید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پولیس ہر طرح سے مستعد ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں اپنے اقلیتی بہن بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ایس ایس پی آپریشن کے مطابق انہیں حالات کی سنگینی کا بھرپور ادراک ہے، خصوصاﹰ اقلیتوں کو ہر ممکن تحفظ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ”موجودہ حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب روزانہ کی بنیاد پر پولیس کو ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو اقلیتی برادری کو بھی دل بڑا رکھنا ہوگا اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہوگا تب ہی امن و امان کی فضا برقرار رہے گی۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور پولیس دیال سنگھ کے قاتل کو پکڑنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کی سو فیصد کوشش کر رہی ہے۔دوسری طرف دیال سنگھ کے قتل پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سمیت انسانی حقوق اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے بھی شدید مذمت کی جا رہی ہے لیکن سکھ برادری کے رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ حکومت مذمتی بیانات سے ہٹ کر خیبر پختونخوا میں بسنے والے 10 ہزار سے زائد سکھوں کو تحفظ اور ایسے واقعات میں مارے جانے والوں کو سرکاری معاونت بھی فراہم کرے تو شاید وہ کچھ سکون کا سانس لیں کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں