17

جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائیکورٹ کی پہلی قائمقام خاتون چیف جسٹس بن گئیں گورنر خیبر پختو نختوا غلام علی نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے حلف لیا

پشاور :جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائیکورٹ کی پہلی قائمقام خاتون چیف جسٹس بن گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قائمقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی،تقریب میں نگران حکومت کے وزراء،پشاور ہائیکورٹ کے ججز اور وکلاء نے شرکت کی۔ مسرت ہلالی نے بطور قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا حلف اٹھایا،گورنر خیبر پختو نخوا حاجی غلام علی نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے حلف لیا۔جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائیکورٹ کی تاریخ کی پہلی خاتون قائمقام چیف جسٹس ہیں،جوڈیشل کمیشن کی جانب سے ریگولر چیف جسٹس کی تعیناتی تک مسرت ہلالی چیف جسٹس رہیں گی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے جسٹس مسرت ہلالی کو پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔30 مارچ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصر رشید خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینئر ترین جج جسٹس روح الامین ایک دن کے لئے قائمقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تعینات کیے گئے تھے۔جسٹس روح الامین کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس مسرت ہلالی نے قائمقام چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس روح الامین کو ایک دن اور جسٹس مسرت ہلالی کو مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی تک قائمقام چیف جسٹس تعینات کیا تھا۔ وزارت قانون کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن جب تک مستقل چیف جسٹس کی تقرری نہیں کرتا اس وقت تک جسٹس مسرت ہلالی قائمقام چیف جسٹس کے فرائض انجام دیں گے۔یاد رہے کہ جسٹس مسرت ہلالی 2013 کو پشاورہائیکورٹ کی ایڈیشنل جج تعینات ہوئیں اور پھر 2014 میں ہائیکورٹ کی مستقل جج بن گئیں،جبکہ آج انہوں نے بطور قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا حلف اٹھایا،جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائیکورٹ کی تاریخ کی پہلی خاتون قائمقام چیف جسٹس بن گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں