30

ای یو: پاکستان ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج، ملکی صنعت کو کیا فائدہ ہوگا؟

اسلام آباد : پاکستان کو اس فہرست میں 2018 میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فہرست سے خارج کیے جانے کے فیصلے کا تذکرہ وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے اپنی ایک ٹویٹ میں کیا، جب کہ وفاقی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان نے میں بھی اس فیصلے کا اپنی ٹویٹ میں تذکرہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو اس کا کریڈٹ دیا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ گذشتہ اکتوبر میں پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے ایف اے ٹی ایف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کی فہرست میں سے نکالنے جانے کے بعد یہ دوسری مثبت خبر ہے، جو پاکستانی معیشت کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔ہائی رسک ممالک کی فہرست میں ایسے ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جہاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں مالی معاملات کے حوالے سے شکایات ہوں۔واضح رہے کہ پاکستان نے ان شکایات کے تدارک کرنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے تھے۔برآمدت میں بہتری کے امکان خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید گراوٹ کا شکار ہے اور شرح نمو گذشتہ کچھ برسوں میں بہت متاثر ہوئی ہے۔ ملک پر 115 بلین ڈالرز سے زائد کا اندرونی اور بیرونی قرضہ ہے جب کہ آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج کی قسط بھی نہیں مل رہی۔تاہم پاکستانی صنعت کاروں کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے بعد معیشت میں بہتری کے کچھ آثار پیدا ہوجائیں گے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے سابق نائب صدر ریحان نسیم کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں بہت بہتری آ سکتی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پاکستان کے پاس پہلے ہی جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس ہے اور امید ہے کہ یورپی کمیشن کے اس فیصلے کے بعد ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ممکنہ طور پر ملک کو ایک سے دو بلین ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے بڑی کمپنیوں کے عہدے داروں نے اپنے دوروں کو محدود کردیا تھا اور زیادہ تر کاروباری اجلاس دبئی میں ہوا کرتے تھے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے بعد وہ یورپی کمپنیاں جو پاکستان سے ٹیکسٹائل اور دوسری مصنوعات درآمد کرتی ہیں ان کے عہدے دار پاکستان میں فیکٹریوں کا دورہ کریں گے۔معیشت پر دریرپا اثرات کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر اور معروف کاروباری شخصیت احمد چنائے کا کہنا ہے اس فیصلے کے پاکستانی معیشت پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”جو کمپنیاں پاکستان کے ساتھ تجارت کرتی تھی اس فیصلے سے پہلے ان کو انشورنس پریمیم زیادہ بھرنا پڑتا تھا اب ان کا پریمیم کم ہوگا۔اس کے علاوہ پاکستانی ایکسپورٹرز کو یورپی یونین کے ممالک میں اضافی ریگولیشنز کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘یکسٹائل، گارمنٹس، سرجیکل گوڈز اور چاول سمیت کئی ایسی اشیا ہیں جو مختلف یورپی ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔ احمد چنائے کا کہنا ہے کہ ان اشیاء کی برآمدات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔وزارت تجارت سے وابستہ ایک سابق عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس فیصلے کا اثر برطانیہ پر بھی ہوگا کیونکہ اس فیصلے کے بعد امکان ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر دسمبر کے بعد جی ایس پی پلس کا درجہ مل جائے گا، جس کے بعد برطانیہ سے بھی ایک اچھے تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے، جو معیشت کے لیے بہت مثبت ہوگا۔جی ایس پی پلس کے بعد پاکستانی معیشت کو مالی اعتبار سے فائدہ ہوگا ہے۔ اس اسٹیٹیس کے بعد پاکستان کو چھیاسٹھ فیصد ای یو ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی فری رسائی ہوئی ہے۔ ای یو پاکستان سے دوہزار تیرہ میں تین اعشاریہ چھپپن بلین یورو کی اشیا برآمد کرتا تھا، جو دوہزار اکیس میں بڑھ کر چھ اعشاریہ چونسٹھ بلین یورہ ہوگئیں۔ یہ تقریبا چھیاسی فیصد اضافہ ہے۔اس عرصے کے دوران پاکستان اور ای یو کی دوطرفہ تجارت میں بھی اضافہ ہوا جو دوہزار تیرہ میں چھ اعشاریہ نو بلین یورو سے بڑھ کر دو ہزار اکیس میں بارہ اعشاریہ دوبلین یورہ ہوگئی۔واضح رہے کہ پاکستان کا امپورٹ بل حالیہ برسوں میں بہت بڑھ گیا ہے۔ مالی سال دوہزار اکیس بائیس میں پاکستان کے امپورٹ بل میں تینتالیس اعشاریہ پینتالیس فیصد اضافہ ہوا تھا۔یعنی اس مالی سال میں اسی اعشاریہ اکیاون بلین ڈالرز امپورٹ پر خرچ کیے گئے۔ مالی سال 2020 سے 21 کے دوران پاکستان نے امپورٹس پر چھپپن اعشاریہ بارہ بلین ڈالرز خرچ کیے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مزید ذرائع پیدا ہوں گے۔ ٹیکسٹائل کے سیکٹر میں، جس میں حالیہ مہینوں میں لاکھوں مزدور بیروزگار ہوئے ہیں، بہتری کی بہت امید ہے جبکہ گارمنٹس اور اسپورٹس کے شعبے سے بھی مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں