36

صدر مملکت کو جوابی خط میں وزیراعظم کے گلے شکوے شہبازشریف نے صدر عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا

اسلام آباد : وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا، جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یکطرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں، آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں ہے اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔جیو نیوز کے مطابق صدر عارف علوی کے 24 مارچ کے خط کے جواب میں وزیراعظم نے لکھا ہے کہ 3 اپریل 2022ء کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا، آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے، کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔انہوں نے جوابی خط میں لکھا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے، جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔شہبازشریف نے خط میں کہا ہے کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں، پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔الیکشن کے حوالے سے انہوں نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیے کیا، صوبائی اسمبلیاں آئینی مقصد کے لیے نہیں، وفاقی حکومت کوبلیک میل کرنےکے لیے تحلیل کی گئیں، یہ بھی نہ سوچا کہ 2 اسمبلیوں کے پہلے الیکشن سے نیا آئینی بحران پیدا ہوگا، آرٹیکل218 کلاز 3 کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے تقاضے بھی فراموش کردیے، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوس ناک ہے، آپ کا یہ طرز عمل صدرکے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر 2023 کو پنجاب میں انتخابات کرانے کی تاریخ دی ہے، تمام وفاقی اور صوبائی اداروں نے متعلقہ اطلاعات الیکشن کمیشن کو مہیا کی ہیں، الیکشن کرانے کی ذمہ داری آئین نے الیکشن کمیشن کو سونپی ہے، الیکشن کمیشن نے طے کرنا ہے کہ شفاف و آزادانہ انتخاب کے لیے سازگار ماحول موجود ہے، آپ نے خط میں سابق وفاقی وزراءکے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا، سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمیشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کر رہے ہیں، آئین کے آرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی آپ کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں، آئین کے آرٹیکل48 کلاز 1کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس پر کام کرنےکا پابند ہے، صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے نہ زیادہ نہ اس سے کم، وفاقی حکومت کےانتظامی اختیار کے استعمال میں وزیراعظم صدرکی مشاورت کا پابند نہیں شہباز شریف نے اپنے جوابی خط میں لکھا ہے کہ میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، ہم آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پرکاربند ہیں، ہم آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں، حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے، ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانےکی اجازت نہ دی جائے، یقین دلاتاہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہرکوشش ناکام بنائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں