اسلام آباد( ویب ڈیسک)پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کا آغاز متوقع ہے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔ ان کا استقبال فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کیا۔
اسی طرح ایرانی وفد، جس کی قیادت اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ ایرانی وفد کا استقبال بھی اعلیٰ پاکستانی قیادت کی جانب سے کیا گیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات سے قبل امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مثبت اور کھلے دل کے ساتھ بات چیت چاہتا ہے، تاہم اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو واشنگٹن سخت مؤقف اپنائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اہم امور کے حل کے لیے ایک اہم موقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آبنائے ہرمز جلد مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امید کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہے اور اگر امریکا ایران کے حقوق تسلیم کرتا ہے تو معاہدہ ممکن ہے۔