اسلام آباد (ویب ڈیسک) – دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اٹلی کے سابق وزیراعظم اور یورپی کمشنر پاؤلو جینٹی لونی نے بھی پاکستان کی اس کوشش کو نوبل انعام کا حق دار قرار دیا ہے۔
پاؤلو جینٹی لونی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں نوبل انعام کا اصل حقدار شاید پاکستان ہی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر اور اردن نے بھی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
چین، روس اور یورپی ممالک سمیت عالمی طاقتوں نے بھی اس جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں کی ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے اسے پائیدار امن کے معاہدے میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ فرانس کے صدر نے لبنان میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔
جرمن چانسلر نے پاکستان کے کردار پر تشکر کا اظہار کیا، اور ترکی نے اسلام آباد میں مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ آسٹریلیا، مصر اور ملائیشیا نے بھی جنگ بندی کو سراہا۔ روس نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے ذریعے مذاکرات آگے بڑھیں گے اور امریکہ کو یوکرین کے معاملات پر دوبارہ توجہ دینے کے لیے وقت اور گنجائش ملے گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے بھی اس جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔