امریکی فوج کی مرکزی کمان United States Central Command (سینٹ کام) کے مطابق ایران میں جاری آپریشن کے دوران امریکا فضائی، بحری، زمینی اور میزائل دفاعی افواج سمیت 20 سے زائد جدید ہتھیاری نظام استعمال کر رہا ہے۔بیان کے مطابق امریکا جدید بمبار اور لڑاکا طیاروں کو بھی استعمال میں لا رہا ہے، جن میں بی-1 بمبار، بی-2 اسٹیلتھ بمبار، ایف-35 لائٹننگ II، ایف-22 ریپٹر، ایف-15 اور ای -18 جی گرولر طیارے شامل ہیں۔اس کے علاوہ مختلف ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹرائک سسٹمز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں لو کاسٹ اَن مینڈ کامبیٹ اٹیک سسٹم (LUCAS) ون وے ڈرونز، ایم کیو-9 ریپر ڈرون، ایم-142 ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (ہائمارس) اور ٹوماہاک کروز میزائل شامل ہیں۔مزید برآں امریکا فضائی دفاعی نظام جیسے پیٹریاٹ میزائل سسٹم، ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) بیٹریاں اور ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) طیارے بھی استعمال کر رہا ہے تاکہ خطے میں دفاعی برتری برقرار رکھی جا سکے۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln اور USS Gerald R. Ford ایران پر حملوں کے آغاز کے وقت مشرقِ وسطیٰ میں موجود تھے، جو بحری آپریشنز میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق آپریشن کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ اور دفاعی حکمت عملی کو مؤثر بنانا ہے، جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔