ایران کے نئے وزیر دفاع تقرری کے 24 گھنٹوں بعد شہید، اسرائیل کا “آپریشن رورنگ لائن” کے تحت تہران پر بڑا حملہ

تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے عبوری وزیر دفاع میجر جنرل مجید ابن الرضا تقرری کے صرف 24 گھنٹوں بعد شہید ہو گئے۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے “آپریشن رورنگ لائن” کے تحت حملوں کی نئی اور تباہ کن لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں ایرانی قیادت اور اہم سرکاری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ تہران میں صدارتی دفتر، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دفاتر اور ایرانی قیادت کے مرکزی کمپاؤنڈ پر متعدد بم گرائے گئے۔ علاوہ ازیں ایرانی سرکاری ریڈیو اور براڈ کاسٹنگ ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق تہران کے انقلاب اسکوائر، ہوائی اڈے اور اہم عسکری تربیت گاہوں پر بھی حملے کیے گئے۔اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شہر قم میں 88 رکنی embly of Experts کے اجلاس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری تھی۔تاہم ایرانی میڈیا نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ ایک پرانی اور خالی عمارت پر کیا گیا، جہاں کوئی موجود ہیں تھا، جبکہ صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1 فوجیوں سمیت مزید 96 افراد شہید ہوئے ہیں، جس کے بعد مجموعی شہداء کی تعداد 788 تک پہنچ گئی ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے 153 شہروں میں 500 سے زائد اہداف پر ایک ہزار سے زیادہ حملے کیے جا چکے ہیں، جبکہ 300 میزائل لانچرز اور ان کے ذخائر کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے تاکہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کمزور کی جا سکے۔