خلیج تعاون کونسل کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت، جارحیت کا جواب دینے کے حق کی توثیق

ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی وزارتی کونسل کا 50واں غیر معمولی اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔اجلاس میں اردن سمیت دیگر ممالک پر حملوں کو خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ کونسل نے واضح کیا کہ کسی بھی ایک رکن ریاست پر حملہ پوری جی سی سی پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام رکن ممالک نے اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے “حقِ جواب” کی توثیق کر دی ہے۔ کونسل کے مطابق ایران کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ عرب سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اس کے باوجود شہری تنصیبات اور عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ خلیجی ممالک کا استحکام عالمی اقتصادی نظام کا اہم ستون ہے، جسے حالیہ کشیدگی سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ایرانی حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات نے تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات انتہائی محدود کر دیے، سفارت خانہ بند کر کے سفیر کو واپس بلا لیا گیا۔ اماراتی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر رضا عامری کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ بھی تھما دیا اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا۔