پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے بعد سرکاری ملازمین کے پنشن قوانین میں اہم ترامیم کر دی گئی ہیں، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق نئی ترامیم کے تحت رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے لیے واضح شرائط مقرر کر دی گئی ہیں۔ اب کوئی بھی سرکاری ملازم اس وقت تک اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ نہیں لے سکے گا جب تک اس کی کم از کم 25 سال سروس مکمل نہ ہو اور عمر کم از کم 55 سال نہ ہو۔ ریٹائرمنٹ اس بنیاد پر دی جائے گی کہ ان دونوں شرطوں میں سے جو شرط آخر میں پوری ہوگی، وہی قابلِ اطلاق سمجھی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق زبردستی ریٹائرمنٹ کی صورت میں بھی پنشن کے حصول کے لیے کم از کم 20 سال سروس مکمل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح بدعنوانی یا بدانتظامی کے کیسز میں بھی پنشن کے لیے مقررہ کوالیفائنگ سروس پوری کرنا شرط ہوگی۔مزید برآں، ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت اختیار کرنے والوں کے لیے قوانین سخت کر دیے گئے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت اگر کوئی ریٹائرڈ ملازم دوبارہ سرکاری نوکری کرتا ہے تو اسے تنخواہ یا پنشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یہ قانون 60 سال سے زائد عمر کے ملازمین پر بھی لاگو ہوگا۔