وزیراعظم شہباز شریف آج غزہ سے متعلق “بورڈ آف پیس” کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ اجلاس کی بنیادی توجہ غزہ میں جنگ بندی، تعمیر نو اور فنڈنگ پر مرکوز ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکا کے تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔ اجلاس ڈونلڈ جے ٹرمپ یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا، جہاں غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے فنڈنگ پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں سعودی عرب، مصر، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت دیگر ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی وفد میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم متعدد اہم عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے موقع پر سینئر امریکی قیادت اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔خیال رہے کہ آٹھ مسلم ممالک نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاریوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کو مکمل اور فوری طور پر غیر مسلح ہونے کے عزم کو پورا کرنا ہوگا تاکہ خطے میں پائیدار امن ممکن ہو سکے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “بورڈ آف پیس” تاریخ کا سب سے مؤثر بین الاقوامی ادارہ ثابت ہوگا اور اس کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا ان کے لیے اعزاز ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ آف پیس کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ بعض یورپی ممالک نے اس فورم میں شرکت یا رکنیت کے لیے امریکی دعوت مسترد کر دی ہے۔