واشنگٹن میں جوہری سائنسدانوں نے دنیا کے خاتمے کی گھڑی (ڈومس ڈے کلاک) میں ایک بار پھر اضافہ کر کے خبردار کیا ہے کہ انسانیت شدید خطرے میں ہے۔ بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس (BAS) نے گھڑی کو آدھی رات سے پہلے 89 سیکنڈ پر سیٹ کیا، جو گزشتہ ریکارڈ کے مقابلے میں چار سیکنڈ آگے ہے۔سی ای او الیگزینڈرا بیل کے مطابق یہ گھڑی انسانیت کو یاد دلاتی ہے کہ ہم زمین کو غیر آباد کرنے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے۔ عالمی جوہری ہتھیار موسمیاتی تبدیلیاں، حیاتیاتی ہتھیار، متعدی بیماریاں اور غیر منظم AI ٹیکنالوجیز سب دنیا کے لیے وجودی خطرات بڑھا رہی ہیں۔یہ گھڑی 1947 میں پہلی بار بنائی گئی تھی اور اس وقت سے اس میں کئی بار تبدیلیاں آئی ہیں، مثلاً سرد جنگ کے خاتمے کے بعد گھڑی 7 منٹ پیچھے گئی تھی۔ موجودہ خطرات میں ایران و اسرائیل تنازعات، روس-یوکرین جنگ، موسمیاتی تباہیاں، اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے بحران شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھتا ہے تو یہ واقعی دنیا کے خاتمے کے مترادف ہوگا، جبکہ موجودہ 3 ڈگری کی بڑھت اگلی دہائیوں میں ناگزیر ہے۔ یہ پیشگوئی انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے موجودہ دور میں آرماجیڈن کے قریب آنے کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔