14 اگست کو ملک بھر میں پاکستان کا 78 واں یومِ آزادی بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا۔ دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، جس میں وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ شہریوں نے نمازِ فجر کے بعد ملک کی ترقی، خوشحالی اور یکجہتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔
پرچم کشائی کی مرکزی تقریب
اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ پر مرکزی پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء نے شرکت کی۔ تقریب میں اسکول کے بچے علاقائی لباس میں ملبوس تھے جنہوں نے وزیراعظم کو پھول پیش کیے۔ وزیراعظم نے پرچم کشائی کی، یادگارِ پاکستان پر پھول رکھے اور ملک کی سلامتی کے لیے دعا کی۔ اس دوران قومی ترانہ ملی جوش و جذبے سے پڑھا گیا۔
مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی
کراچی میں بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی، جس میں پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔ کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کموڈور تصور اقبال مہمانِ خصوصی تھے۔ کیڈٹس نے شاندار مارچ پاسٹ اور پریڈ کا مظاہرہ کیا۔
سڑکوں پر جشن، ہر طرف جوش و خروش
اس سال کے یومِ آزادی کو “معرکہ حق” کی عظیم فتح سے بھی منسوب کیا گیا ہے، جس نے جشن کی خوشیوں کو دوگنا کر دیا۔ رات 12 بجتے ہی ملک کے شہروں میں جشن کا آغاز ہوگیا۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ہر طرف “پاکستان زندہ باد” کے نعرے گونج رہے تھے۔ چھوٹی بڑی ریلیاں نکالی گئیں، ملی نغموں پر بھنگڑے ڈالے گئے، اور مختلف ثقافتی شوز کا انعقاد بھی ہوا۔