باری طبقے کو بڑا ریلیف: ایف بی آر کی گرفتاریوں پر نئی ‘سیفٹی لاک’ پالیسی!

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس قانون کی شق 37A میں اہم ترمیم کر دی ہے — اب کمشنر کسی تاجر کے خلاف کارروائی ممبر ان لینڈ ریونیو کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکے گا۔


🔍 کیا ہے نیا قانون؟

  • اب کسی بزنس مین کے خلاف تحقیقات یا کارروائی کا آغاز تبھی ممکن ہوگا، جب ممبر ان لینڈ ریونیو اس کی منظوری دے گا۔
  • ایف پی سی سی آئی، چیمبرز آف کامرس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی کی اجازت بھی لازم قرار دی گئی ہے۔

💬 تاجروں کا مؤقف اور خوشی

سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے اسے تاجروں کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا:

“فنانس ایکٹ 2024 میں تاجر برادری کے مشورے سے اہم ترمیم کی گئی ہے۔ اب بغیر مشاورت کوئی گرفتاری نہیں ہو سکے گی۔”

انہوں نے بتایا کہ 18 چیمبرز آف کامرس کی کوششوں کے نتیجے میں یہ قانون ممکن ہوا۔


👥 آرمی چیف کا وعدہ پورا!

گوہر اعجاز نے مزید کہا کہ:

“چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے بزنس کمیونٹی کو ایف بی آر کے سخت رویے سے بچانے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ آج پورا ہوا۔”