دلچسپیوں سے بھری نجکاری کی نئی داستان: کن اداروں کو بیچنے جا رہی ہے حکومت؟

حکومت کی جانب سے نئی نجکاری فہرست قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے، جس نے کئی سوالات اور تجسس کو جنم دے دیا ہے — آخر کن اداروں کو بیچا جا رہا ہے؟ کب اور کیوں؟

وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے ایوان میں بتایا کہ اس بار یہ عمل تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا، اور اس کا مقصد ان اداروں کو فعال، مؤثر اور منافع بخش بنانا ہے۔


🔹 پہلا مرحلہ (1 سال میں مکمل):

ایک سال کے اندر 10 اہم ادارے نجکاری کے عمل سے گزریں گے، جن میں شامل ہیں:

  • PIA (پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن)
  • روز ویلٹ ہوٹل (نیویارک)
  • فرسٹ وومن بینک
  • ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن
  • زرعی ترقیاتی بینک (ZTBL)
  • آئیسکو (اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی)
  • دو مزید ڈسکوز

🔹 دوسرا مرحلہ (3 سالہ منصوبہ):

اگلے تین سال میں مزید 13 ادارے نجکاری کی فہرست میں آئیں گے، جن میں شامل ہیں:

  • اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن
  • یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن
  • لیسکو (لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی)
  • 5 دیگر ڈسکوز
  • 4 پاور جنریشن کمپنیاں (جینکوز)

🔹 تیسرا مرحلہ (5 سالہ ہدف):

اس مرحلے میں صرف ایک ادارہ — پوسٹل لائف انشورنس کمپنی — کو نجکاری کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جس کا ہدف پانچ سال میں مکمل کرنا ہے۔