پولیس حکام نے بتایا کہ جھولے سے گرنے کے باعث حمنہ نامی بچی کے سر پر چوٹ لگی، تھانہ سول لائن میں والد کی مدعیت میں اتفاقیہ موت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمے میں جھولا آپریٹر، منیجر اور ٹھیکیدار قیصر کو ملزم نامزد کیا گیا۔ مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان نے حفاظتی اقدامات کیے بغیر جھولا چلایا جس سے بیٹی کا توازن خراب ہوا اور وہ نیچے گری۔ ڈاکٹر سٹی کا رہائشی غلام مصطفیٰ ہفتے کی رات اپنی 12 سالہ بیٹی حمنہ کو لے کر فن لینڈ گیا جہاں ڈسکوری جھولے پر جھولا لینے کے دوران بیلٹ درست بند نہ ہونے کے باعث وہ زمین پر گر گئی۔ سر پر چوٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئی جبکہ الائیڈ اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئی۔ پولیس تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔ اے آر وائی نیوز نے حادثے کی فوٹیج حاصل کر لی جس میں جھولے سے لٹکتی بچی کو زمین سے ٹکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔