تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما جاویدلطیف نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آئی ایم ایف وفد چیف جسٹس سے ملاقات کرے کیا پاکستان اس کا متحمل ہوسکتاہے؟ ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کومداخلت کی دعوت کون دےرہاہے، یہاں تک نوبت آگئی ہےکہ عالمی قوتوں نے مداخلت شروع کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کوخطوط کون لکھتاہے،کون لابنگ کرتاہے؟ ثاقب نثار سے بندیال صاحب تک جو فیصلے ہوئےا س کی وجہ پاکستان گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے حوالے سے ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا کام ہے یکجا ہونا اور حکومتی اتحادکااپناموقف ہے، شفاف الیکشن کیلئے کوئی لائحہ بنائے تو یہ حکومت اور ریاست کیلئے اچھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا نئے الیکشن مسائل کا حل ہیں اور کیا گارنٹی ہے کہ نئے الیکشن شفاف ہوں گے، یقیناََ 2018 کی طرح 2024 کے الیکشن پر بھی انگلیاں اٹھی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ 2013 کےانتخابات پرتو لوگوں کواعتمادتھاتوپھرکس نےدھرناکروایا؟ بدقسمتی سےاداروں میں بھی سیاست ہورہی ہے۔