گورنر سندھ نے کراچی میں آئے روز ڈمپروں اور ٹریفک کے دیگر حادثات میں شہریوں کی بہت زیادہ اموات پر سخت رد عمل میں سوال اٹھایا ہے کہ ’’صرف کراچی ہی میں ڈمپروں کے کچلنے کے اس قدر واقعات کیوں ہو رہے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا ایک ہی روز میں کراچی کے 4 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ڈمپر ڈرائیوروں کا لوگوں کو کچل کر فرار ہونا سوالیہ نشان ہے۔ کامران ٹیسوری نے ٹریفک حادثات کو انتظامیہ کی غفلت قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان کی غفلت کب تک معصوم شہریوں کی زندگیاں چھینے گی؟ انھوں نے مطالبہ کیا کہ جس کمپنی کا ڈمپر حادثے کا ذمہ دار ہو، اس کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے۔ گورنر سندھ نے سندھ حکومت سے ڈمپر مافیا کے خلاف ایک ہفتے میں لائحہ عمل دینے کا مطالبہ کر دیا ہے، انھوں نے کہا سندھ حکومت ڈمپر مافیا کے خلاف کارروائی کرے ورنہ میں خود لائحہ عمل دوں گا۔ دریں اثنا گورنر سندھ نے ڈمپر حادثے میں جاں بحق افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کا بھی اعلان کیا۔