کمشنر راولپنڈی کا انکشاف صرف ڈرامہ ہے،فضل الرحمان کی ”فائل “ ترکیہ تک چلی گئی ہے:فیصل واوڈا

سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی کا انکشاف صرف ڈرامہ ہے،اس کا ڈائریکٹر کوئی بھی ہوسکتا ہے، اس کی تحقیقات کرائیں کرائیں ان کی دوستیاں کس کے ساتھ تھیں؟ ان کے پاس جائیداد کہاں سے آئی؟ وہ کتنے زبردست تھے، کتنے برے تھے؟ کہا جا رہا ہے کہ ان کی دوستیاں اور وابسطگیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ بڑے کھلے عام ان کی تصویریں بھی آ رہی ہیں نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انکی” فائل “ بھی کافی بڑی ہو گئی ہے جو ترکیہ تک چلی گئی ہے۔ سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ (ن) لیگ نے ان کو لانچ کر دیا ہو، پیسے دے دیے ہوں۔ یہاں سارا کھیل پیسے کا ہے۔ یہاں سب کے سیلف انٹرسٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دس بارہ دن ان کی ریٹائرمنٹ میں ہیںم بھٹو صاحب کی شہادت کو پچاس سال تو ہوگئے ہیں، ہم تو اس کی ابھی تک تحقیقات ہی کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس پی آئی ڈی سی کراچی میں بہت بڑی اربوں کھربوں کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ اس کو ماشااللہ سے چھیالیس سال ہوگئے ہیں، تو ٹھیک ہے پروب کریں فیصل واوڈا نے کہا کہ جو کمشنر صاحب نے کہا ہے کہ وہ بھی پروب کر لیتے ہیں اور جو کمشنر صاحب ہیں ان کو بھی پروب کر لیتے ہیں۔ نکل جائے گا ایک دو الیکشن۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ان کو کانٹوں کا تاج کوئی پہنا نہیں رہا۔ (ن) لیگ کو کانٹوں کے تاج پہ سب مل کر بٹھا رہے ہیں۔ تو فرق ہوتا ہے۔ کانٹوں کے تاج کو پہننے اوربیٹھنے میں بڑا فرق ہے۔ تو چیخیں تو نکلیں گی۔ اس وقت جب ہم آپ کے پروگرام میں بات کر رہے ہیں، تو مخلوط حکومت ہے۔ پی ڈی ایم 2 ہے۔ زرداری صاحب جو ہیں یا جو پیپلزپارٹی ہے آئینی عہدے لے لے گی اور آئینی عہدے لینے کے بعد شاید اتنی سے پرسنٹ ایج ان کو سمجھ میں آجائے کہ سال ڈیڑھ سال چل جائے گی تو وزارتیں لینے میں کسی کو کوئی قباحت نہیں ہوگی کمشنر راولپنڈی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کوئی نارمل آدمی دس دن بعد یہ کیسے قبول کر سکتا ہے۔ دس منٹ بعد ہوتا، دس گھنٹے بعد ہوتا تب بھی مان لیتے، آپ دس دن بعد کہہ رہے ہیں کہ میرا ضمیر جاگ گیا ہے۔ ہمارے ملک میں مسئلہ یہ ہے کہ چاہے وہ آدمی ہو یا عورتیں ہوں، ہر بار کہتی ہیں کہ خودکشی کر رہی ہوں ، کرتی کوئی نہیں ہے۔ ضمیر کے بوجھ میں الیکشن کے اگلے دن۔ اور آپ مرجاتے تو ہم آپ کی فاتحہ پڑھنے اور جنازہ اٹھانے آ جاتے۔ اور کہتے بڑا اچھا آدمی تھا۔ایک آدمی دس دن بعد ریٹائر ہو رہا ہے۔ اس پر تو خود سو سوال ہیں۔ اس کے پاس اتنی جائیداد کہاں سے آئی؟ اس کی پراپرٹی کی فائلیں کہاں سے آئیں؟دس دن بعد ریٹائر ہو رہا اور ضمیر دس دن بعد جا گ رہا ہے انہوں نے کہا کہ نوگھنٹے بعد ہوتے، دس گھنٹے بعد ہوتے، اگلے دن بھی ہوتے، شاید دوسرے دن بھی ہوتے، بیوی، بچوں نے کوئی ضمیر جگا دیا ہے، اکثر یہ ہوتا ہے کہ آپ بے ضمیر ہوتے گھر والے ضمیر جگا دیتے ہیں۔ دس دن بعد اور دس دن پہلے ریٹائرمنٹ سے ، یہ سب نان سینس ہے۔ تو پھر آپ نے مولانا صاحب کا بھی کھیل دیکھ لیا تو مولانا صاحب کا کھیل یہ ہے کہ ان کو ان کی وش لسٹ کے حساب سے رزلٹ نہیں آئے ہیں۔وہ بھی جلد مان جائیں گے،ان کی فائل بھی کافی بڑی ہوگئی ہے جو اب ترکیہ تک چلی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ کہ سارے جو ایکسپائر لیڈر ہیں وہ ایک کنٹینر کے اوپر ہوں گے یا اس کے اندر بند ہوں گے۔