پی ٹی آئی سے ممکنہ اتحاد پر ایم کیو ایم نے کیا کہا؟

8 فروری کے انتخابات کے نتائج کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو تنہا حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت نہیں ملی ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کا گروپ 101 نشستوں کے ساتھ سر فہرست ہے۔ ن لیگ دوسرے اور پی پی تیسرے نمبر پر ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سازی کے لیے ن لیگ نے کوششیں شروع کر دی ہیں جس نے پی پی سمیت ایم کیو ایم، جے یو آئی ف اور آزاد امیدواروں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کا وفد اسی سلسلے میں آج نواز شریف سے بھی ملاقات کر رہا ہے دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے بھی رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر خان نے ایم کیو ایم سے ممکنہ اتحاد کی جانب اشارہ دیا تھا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کے دوران پاکستان تحریک انصاف سے کسی ممکنہ اتحاد سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا ساتھ چلنے خواب ہو سکتا ہے خالد مقبول نے کہا کہ ہمارا آئین میں تین ترامیم کا مطالبہ ہے اور یہی معاہدہ ہے۔ اگر ہمارے ووٹ سے حکومت بنتی ہے تو ہمارے مطالبے کو سپورٹ کرنا چاہیے تاہم ضروری نہیں کہ ہم کابینہ میں بھی بیٹھیں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد ہو سکتا ہے، بیرسٹر گوہر کی اے آر وائی نیوز سے گفتگو ایم کیو ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا فون آیا تھا اور انہوں نے لاہور آنے کی دعوت دی تاہم میرا خیال ہے کہ انہیں بہادر آباد آنا چاہیے تھا۔